بالائی قدیم سنگی دور

بالائی قدیم سنگی دور ( Upper Palaeolithic, Late Stone Age) پیلیولیتھک یا قدیم پتھر کے دور کی آخری ذیلی تقسیم ہے۔ وسیع تناظر میں یہ دور دس ہزار سے 50 ہزار سال قبل کا دور ہے۔ اس دور میں کردار میں جدیدیت آنی شروع ہوئی لیکن یہ دور زراعت شروع ہونے کے دور سے کچھ قبل کا ہے۔

انسانوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک لاکھ 95 ہزار قبل افریقہ میں نمودار ہوئے۔ اگرچہ یہ انسان اپنی ساخت میں جدیدیت رکھتے تھے لیکن ان کی طرز زندگی ان کے ہم عصر نوع جیسے ہومو ایرکٹس اور نیاڈر تھال سے زیادہ مختلف نا تھے۔

پچاس ہزارسال قبل انسانی نوادرات وغیرہ میں تنوع ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ افریقہ میں سب سے پہلے بنائے گئے ہڈیوں کے نودارات دریافت ہوئے۔ 43 سے 45 ہزار سال قبل جب انسان یورپ کی جانب بڑھے تو یہ اوزار اپنے وہاں منتقل کر گئے۔ اس انسانی ترقی نے ان کی آبادی میں بے انتہا اضافہ کر دیا اور اسی سبب نینڈرتھا ل لوگوں کی نوع ناپید ہوگئ۔

فرانس

جمہوریہ فرانس یا فرانس (فرانسیسی: République française، دفتری نام: جمہوریہ فرانس) ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔

وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انہوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔

انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔

فرانس سینکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.