بادشاہت

بادشاہت ایک روایتی خود مختار حکومتی نظام ہے۔ اس میں تمام اختیارات بادشاہ (مرد حاکم) یا ملکہ(خاتون حاکم) کو حاصل ہیں۔ آج کل دنیا میں 44 ممالک بادشاہت کے ماتحت ہیں۔ برونائی، عمان، سعودی عرب، قطر، ویٹیکن سِٹی، سوازی لینڈ وغیرہ ممالک میں تاریخی طور پر خود مختار بادشاہت قائم ہے۔ اس طرز حکومت میں بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کی اولاد نے جسے وہ نامزد کرے بادشاہ ہوتا ہے۔ بادشاہ جسے نامزد کرتا ہے اسے ولی عہد کہتے ہیں۔

World Monarchies
  مکمل بادشاہت
  نیم آئینی بادشاہت
  آئینی بادشاہت
  دولت مشترکہ کی آئینی بادشاہت
  ضمنی قومی بادشاہت(روایتی)
آئینی بادشاہت

آئینی بادشاہت جسے پارلیمانی بادشاہت بھی کہا جاتا ہے، بادشاہت کی ایسی شکل ہے جس میں بادشاہ کسی آئین کے مطابق ہی اپنے اختیارات کا استعمال کر سکتا ہے۔ آئینی بادشاہت خود مختار بادشاہت سے مختلف ہے جس میں بادشاہ مطلق العنان ہوتا ہے، جبکہ آئینی بادشاہت میں بادشاہ اپنے اختیارات کو پہلے سے قانونی طور پر طے شدہ حدود ہی میں استعمال کر سکتا ہے۔

آسٹریلیا

دولت مشترکہ آسٹریلیا (Commonwealth of Australia) جنوبی نصف کُرے کا ایک ملک ہے جو دنیا کے سب سے چھوٹے براعظم پر مشتمل ہے۔ اس میں تسمانیہ کا بڑا جزیرہ اور بحر جنوبی، بحر ہند اور بحر الکاہل کے کئی چھوٹے بڑے جزائر شامل ہیں۔ اس کے ہمسایہ ممالک میں انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور پاپوا نیو گنی شمال کی طرف، سولومن جزائر، وانواتو اور نیو سیلیڈونیا شمال مشرق کی طرف اور نیوزی لینڈ جنوب مشرق کی طرف موجود ہے۔

آسٹریلیا کا مرکزی حصہ 42000 سال سے قدیمی آسٹریلین لوگوں سے آباد رہا ہے۔ شمال سے آنے والے اکا دکا ماہی گیروں اور یورپی مہم جوؤں اور تاجروں نے 17ویں صدی میں ادھر آنا شروع کر دیا تھا۔ 1770ءمیں آسٹریلیا کے مشرقی نصف حصہ پر برطانیہ نے دعویٰ کیا۔ اسے پھر 26 جنوری 1788ء میں نیو ساؤتھ ویلز کی کالونی کا حصہ بنا دیا گیا۔ جونہی آبادی بڑھتی گئی اور نئے علاقے دریافت ہوتے گئے، 19ویں صدی تک ادھر مزید پانچ کالونیاں بھی بنا دی گئیں۔

یکم جنوری1901ء کو ان 6 کالونیوں نے مل کر ایک فیڈریشن بنائی اور اس طرح دولت مشترکہ آسٹریلیا وجود میں آئی۔ فیڈریشن سے لے کر اب تک، آسٹریلیا میں معتدل جمہوری سیاسی نظام موجود ہے اور یہ ابھی تک دولت مشترکہ ہے۔ اس کا دار الحکومت کینبرا ہے۔ اس کی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ ہے اور یہ مین لینڈ کے دارلحکومتوں سڈنی، میلبورن، برسبن، پرتھ اور ایڈیلیڈ میں پھیلا ہوا ہے۔

انتخابات بلحاظ ملک

انتخابات بلحاظ ملک انتخابات کی معلومات فراہم کرتا ہے۔

بادشاہ

بادشاہ ایک ریاست کا حکمران ہوتا ہے جس کو اس ریاست کے تمام اختیارات حاصل ہیں۔ اس قسم کی حکومت کو بادشاہت کہی جاتی ہے۔ حکمران اگر عورت ہو تو ملکہ کہلاتی ہے۔ بادشاہت میں عموماً بادشاہ کی اولاد اس کے جانشین ہوتی ہیں، جن کو ولی عہد کہلاتے ہیں۔ بادشاہ کے انتقال کے بعد اُن میں سب سے بڑا بادشاہ ہو جاتا ہے۔

جزائر فارو

جزائرفارو (Faroe Islands) ڈنمارک کے تحت ایک خود مختار مجمع الجزائر ہیں۔ یہ برطانیہ کے شمال میں بحر منجمد شمالی میں ہیں۔

ناروے اور آئس لینڈ کے وسط میں بحیرہ ناروے اور شمالی بحر اوقیانوس کے سنگم پر واقع ڈنمارک کی بادشاہت کے زیر اثر ایک خود مختار مجموعہ جزائر۔ کل رقبہ تقریبا 540 مربع میل۔2010 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 50000 نفوس پر مشتمل ہے۔1948 میں جزائر فارو کو جزوی خود مختاری دی گئی۔وقت کے ساتھ ساتھ اس خود مختاری میں اضافہ ہوا اور ڈنمارک کے پاس دفاع،خارجہ،پولیس،عدلیہ اور خزانہ کے معاملات رہ گئے۔مذہب عیسائیت ہے۔فرینگاسیگا کے مطابق سگمندربرسٹسن نے 999ء میں یہاں عیسائیت متعارف کرائی۔ایک اور روایت کے مطابق اس سے نصف صدی قبل یہاں عیسائیت کے پیروکار موجود تھے۔جزائرفارو کا پہلا کلیسا یکم جنوری 1540 کو مکمل ہوا۔یہاں کی ثقافت نارڈک ممالک سی ہے اور یہاں کی زبان فیروئیز ہے جوتین زبانوں کا امتزاج ہے قدیم سکنڈینیوین،برفستانی اور فیروئیز۔چٹانی علاقوں اور کم رقبے کی وجہ سے یہاں کا نظام مواصلات دنیا کے دیگر ملکوں جیسا نہیں تھا لیکن اب یہ صورت حال نہیں اور بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں تقریبا 80 فیصد آبادی کو سرنگوں، پلوں اور برساتی راہوں کے ذریعے ملا دیا گیا ہے اور تقریبا تمام جزائر اب منسلک ہیں۔

جزائر کک

جزائر کک جنوبی بحر الکاہل میں ایک پارلیمانی جمہوریت ہے۔ اس کا صدر مقام آواریا ہے۔

دولت مشترکہ قلمرو

دولت مشترکہ قلمرو (Commonwealth realm) دولت مشترکہ ممالک میں شامل 16 خود مختار ریاستوں میں سے ایک ہے جس کی آئینی ملکہ ایلزبتھ دوم ہے۔

سلطنت مجرتین

سلطنت مجرتین (Majeerteen Sultanate) (صومالی: Saldanadda Majeerteen، عربی: سلطنة مجرتين) قرن افریقہ میں ایک صومالی سلطنت تھی جس کے سنہری دور میں شاہ عثمان محمود اس کا حکمران تھا۔

سلیمان (بادشاہ)

سلیمان (/ˈsɒləmən/؛ عبرانی: שְׁלֹמֹה، جدید Shlomo ، طبری Šəlōmō Šlomo؛ سریانی: ܫܠܝܡܘܢ Shlemun؛ عربی: سُليمان Sulaymān، Silimān یا Slemān؛ یونانی: Σολομών Solomōn؛ لاطینی: Salomon) جدیدہ( بھی کہلاتے ہیں، عبرانی:יְדִידְיָהּ) بائبل، کتاب سلاطین اول 1-11، (کتاب تواریخ اول 28-29، تواریخ 1-9)، قرآن، حدیث اور قرآن میں مختلف اشاروں کے مطابق سلیمان بے تحاشہ امیر اور عقلمند اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ اور داؤُد (سابقہ بادشاہ اسرائیل) کا بیٹا تھا۔

سلیمان کا بادشاہت کا دور مختلف روایات کے مطابق 970 ق۔ م سے 931 ق۔ م تھا۔

عثمانی خاندان

عثمانی خاندان یا عثمانیہ خاندان (Ottoman dynasty) (ترکی: Osmanlı Hanedanı / عثمانی خاندان) 1299ء سے 1922ء تک سلطنت عثمانیہ پر حکومت کرنے والا خاندان تھا جس کی ابتدا عثمان اول (اس کے والد ارطغزل کو شامل کیے بغیر) سے ہوئی، اگرچہ عثمانی خاندان کا اعلان اورخان اول کے زمانے تک نہیں کیا گیا تھا۔

قاجار خاندان

قاجار خاندان (Qajar dynasty) ( قاجار ) (فارسی: دودمان قاجار) ایک ترک النسل ایرانی شاہی خاندان تھا، جس نے 1785ء سے 1925ء تک فارس (ایران) پر حکومت کی۔

قاجار خاندان نے 1794ء میں زند خاندان کے آخری حکمران لطفعلی خان زند کو شکست دے کر فارس کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، اور قفقاز اور وسطی ایشیاء کے بڑے حصوں پر فارسی خودمختاری دوبارہ قائم کی۔ 1796ء میں محمد خان قاجار نے آسانی کے ساتھ مشہد پر قبضہ کر لیا جو اس وقت درانی سلطنت کے تحت تھا۔

قطر

قطر (/ˈkætɑr/، /ˈkɑːtɑr/، /ˈkɑːtər/ or /kəˈtɑr/; عربی: قطر Qaṭar [ˈqɑtˤɑr]; علاقائی ہجے: [ˈɡɪtˤɑr])، (عربی: دولة قطر Dawlat Qaṭar) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو جزیرہ نمائے عرب کے جزیرہ نمائے قطر میں واقع ہے۔ یہ ایک خود مختار ریاست ہے مگر اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا یہ دستوری بادشاہت ہے یا مطلق العنان بادشاہت ہے۔ اس کی زمینی سرحد خلیج فارس اور خلیج بحرین سے ملتی ہیں۔ خلیج فارس قطر کو بحرین سے الگ کرتا ہے۔

2017ء میں اس کی کل آبادی 2.6 ملین تھی جس میں 313,000 قطری شہری اور 2.3 تارکین وطن ہیں۔ قطر کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ قطر دنیا کا سب سے زیادہ فی کس آمدنی اور فہرست ممالک بلحاظ فی کس خام ملکی پیداوار (مساوی قوت خرید) والا ملک ہے۔ قطر عالمی بینک اعلیٰ آمدن معیشت والا ملک ہے۔ قطر دنیا کا تیسرا قدرتی گیس کا ثابت شدہ ذخائر والا ملک بھی ہے۔قطر ہر آل ثانی کی حکومت ہے اور اس کے موجودہ حکمران محمد بن ثانی الثانی ہیں۔ آل ثانی نے 1868ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور اسے آزاد ریاست کا درجہ دیا۔ 20ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے بعد قطر سلطنت برطانیہ کا حصہ بنا اور 1971ء میں آزادی حاصل کی۔ 2003ء میں آئین قطر کو 98% کی اکثریت کے ساتھ منظوری ملی۔ 21ویں صدی میں عرب دنیا کی اہم طاقت بن کر ابھرا۔ اس کا الجزیرہ میڈیا نیٹورک دنیا بھی میں اپنے معیار، مالیات اور ترقی کے لیے مشہور ہے۔۔ اس نے عرب بہار کے دوران میں کئی باغی گروہوں کو تعاون دیا۔ middle power۔ فی الحال قطر سفارتی بحران سے دوچار ہے۔ اس پر 2017ء میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے پابندی لگادی تھی۔

مشرق بعید

مشرق بعید (Far East) (چینی: 远东) ایک اصطلاح ہے جو زیادہ تر مشرقی ایشیا (شمال مشرقی ایشیا سمیت)، جنوب مشرقی ایشیا اور روسی مشرق بعید کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

مطلق العنان بادشاہت

مطلق العنان بادشاہت حکومت کی اقسام میں سے ایک قسم ہے جس میں مکمل طور پہ ایک بادشاہ کی حکومت اور طاقت و اختیارات ہوتے ہیں اور ایک بادشاہ تا عمر بادشاہ رہتا ہے۔ سعودی عرب مطلق بادشاہت کی ایک معروف مثال ہے۔

مملکت آئرلینڈ

مملکت آئرلینڈ (Kingdom of Ireland) (آئرش: Ríoghacht Éireann) آئرلینڈ کے ملک سے مراد وہ ریاست ہے جو ہنری ہشتم کے اعلان بطور شاہ آئرلینڈ وجود میں آئی۔

مملکت اسرائیل (متحدہ بادشاہت)

عبرانی کتاب مقدس کے مطابق 1020 قبل مسیح کے ارد گرد غیر ملکی اقوام سے انتہائی خطرات کے تحت اسرائیلی قبائل پھر سے متحد ہو کر متحدہ مملکت اسرائیل و یہودہ کا قیام عمل میں لائے، جب سموئیل نے طالوت کو پہلا بادشاہ مقرر کیا۔

میکسیکی سلطنت اول

میکسیکی سلطنت (انگریزی: Mexican Empire؛ ہسپانوی: Imperio Mexicano) یا میکسیکی سلطنت اول (انگریزی: First Mexican Empire؛ ہسپانوی: Primer Imperio Mexicano, Imperio Mexicano Primero) بعد نوآبادیاتی دور میکسیکو کی پہلی آزاد ریاست تھی۔ یہ سلطنت ہسپانیہ کی واحد نوآبادی تھی جو آزادی کے بعد ایک بادشاہت بنی۔ اس کا قیام 1821ء میں معاہدہ قرطبہ سے عمل میں آیا اور یہ 1823ء میں شہنشاہ کی دستبرداری کے بعد میکسیکی جمہوریہ اول کے اعلان تک قائم رہی۔ جبکہ 1864ء میں میکسیکی سلطنت دوم ایک قلیل مدت کے لیے قائم ہوئی۔

چین

عوامی جمہوریہ چین موجودہ چین کو کہتے ہیں اور جمہوریہ چین سے مراد تائیوان اور اس سے ملحقہ علاقے ہیں

چین (جسے روایتی چینی میں中國 کہتے ہیں، آسان چینی میں中国 کہتے ہیں) جو ایشیا کے مشرق میں واقع ثقافتی اور قدیم تہذیب کا علاقہ ہے۔ چین دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں سے ایک ہے جو آج ایک کامیاب ریاست کے روپ میں موجود ہے۔ اس کی ثقافت چھ ہزار سال پرانی ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ہونے والی چین کی خانہ جنگی کے اختتام پر چین کو دو ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا، ایک کا نام عوامی جمہوریہ چین اور دوسری کا نام جمہوریہ چین رکھا گیا۔ عوامی جمہوریہ چین کے ما تحت مین لینڈ، ہانگ کانگ اور میکاؤ، جبکہ جمہوریہ چین کا کنٹرول تائیوان اور اس کے ملحقہ علاقوں پر تھا۔

چین کی تہذیب دنیا کی ان چند تہذیبوں میں سے ایک ہے جو بیرونی مداخلت سے تقریباً محفوظ رہیں اور اسی وقت سے اس کی زبان تحریری شکل میں موجود ہے۔ چین کی کامیابی کی تاریخ کوئی چھ ہزار سال قبل تک پہنچتی ہے۔ صدیوں تک چین دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم اور مشرقی ایشیا کا تہذیبی مرکز رہا جس کے اثرات آج تک نمایاں ہیں۔ اسی طرح چین کی سرزمین پر بہت ساری نئی ایجادات ہوئی ہیں جن میں چار مشہور چیزیں یعنی کاغذ، قطب نما، بارود اور چھاپہ خانہ شامل ہیں۔

ہوتکی سلطنت

ہوتکی سلطنت (Hotaki Empire) میر وایس ہوتک نے قندھار میں صفوی سلطنت کو شکست دینے کے بعد اپریل 1709 میں قائم کی۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.