امیرالبحرمقابل

امیرالبحرمقابل (vice admiral)، عسکری رتبات میں سے ایک رتبہ ہے جس سے مراد اس منصب (officer) کی ہوتی ہے کہ جو جامع نقیب (lieutenant general) کے مساوی درجہ رکھتا ہو اور اس سے بالا، بحریایہ (naval) درجے پر امیر البحر ہو جبکہ اس کے ماتحت امیرالبحر خلفی کا درجہ آتا ہو۔

عسکری مراتب
بحری افواج مسلح افواج فضائی افواج
امیرالبحراسطول
Admiral
of the fleet
سالار المیدان
Field Marshal
سالار فضائیہ
Marshal of the
Air Force
امیرالبحر
admiral
جامع
general
امیرسالار فضائیہ
Air Chief Marshal
امیرالبحرمقابل
vice admiral
جامع نقیب
Lieutenant-
general
سالار فضائیہ
Air Marshal
امیرالبحر خلفی
Rear Admiral
جامع اکبر
Major General
سالار فضائیہ مقابل
Air Vice Marshal
عَمِيد البحر
commodore
عَمِيد
brigadier
عَمِيد الفضاء
air commodore
سردار
Captain
زعیم
Colonel
سردار جماعت
Group captain
شارف
Commander
زعیمِ نقیب
Lieutenant-
colonel
شارف الجناح
Wing commander
شارف نقیب
Lieutenant-
commander
اکبر
major
قائدِ دستہ
Squadron leader
نقیب
lieutenant
سردار
Captain
نقیبِ پرواز
Flight lieutenant
نقیبِ نائب
sub-lieutenant
نقیب
lieutenant
منصبِ طیار
Flying officer
Warrant Officer Warrant Officer Warrant Officer
Petty Officer Sergeant Sergeant
Leading Rate Corporal Corporal
Seaman Private Aircraftman

نگار خانہ

Royal Australian Navy OF-8.svg
CDN-Navy-VAdm-Shoulder
Vadm-Can-2010
Rukav zimske odore viceadmirala HRM
EgyptianNavyInsignia-ViceAdmiral-shoulderboard.svg
Marque VA
French Navy-Rama NG-OF7
22 - vad
POL PMW pagon1 wiceadmirał.svg
RO-Navy-OF-9s
4arm
SWE-NavyOF8
Generic-Navy-O10
-->
US Navy O9 insignia
USCG O-9 insignia
20-Daryasalar
16-IIN-Daryasalar-2
الطاف حسین (صحافی)

صحافی، سلہٹ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1923ء میں ایم اے کیا۔ 1938ء تک مختلف کالجوں میں انگریزی کے استاد رہے پھر سرکاری ملازمت اختیار کی۔ 1945ء میں روزنامہ ڈان دہلی کے ایڈیٹر مقررہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈان کراچی منتقل ہوا تو آپ بھی کراچی آ گئے۔ 1951ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔ 1952ء میں بین الاقوامی اقتصادی کانفرنس منعقدہ ماسکو میں شرکت کی۔ کچھ عرصہ پاکستان نیشنل کمیٹی انٹرنیشل پریس انسٹی ٹیوٹ اور کامن ویلتھ پریس یونین کی پاکستان شاخ کے صدر رہے۔ 1960ء میں آپ کو ہلال قائداعظم کا اعزاز دیا گیا۔ 1965ء میں مرکزی حکومت کے وزیر صنعت و حرفت بنائے گئے۔ انگریزی میں تین کتب شکوہ جواب شکوہ کا ترجمہ انڈیا گزشتہ دس سال اور ماسکو میں پندرہ دن کے مصنف ہیں۔

امیر البحر

(انگریزی: Admiral) لفظ ایڈمرل اسی کی بگڑی ہوئی صورت ہے اور یہ اس زمانے کی یادگار ہے جب عرب مسلمانوں کے جہاز مشرقی سمندروں میں فتح و کامرانی کے پھریرے اڑاتے پھرتے تھے۔ عربوں نے سب سے پہلا بیٹرا حضرت عثمان کے عہد خلافت میں تیار کیا جب کہ والی مصر عبداللہ ابن سعد قبرص کو تسخیر کرنے کا منصوبہ تیار کر رہا تھا۔ موجودہ دور میں ایڈمرل بحری فوج کا سب سے بڑا افسر ہوتا ہے۔ برطانیہ میں اس عہدے کے چار درجے ہیں۔ ہر درجے کا افسر اپنے حلقے کے لیے امتیازی نشان اور خاص جھنڈا رکھتا ہے۔ اور اس پر سینٹ جارج کی صلیب احمر کا نشان ہوتا ہے۔

امیرالبحر خلفی

امیرالبحر خلفی (rear admiral)، عسکری بحریایہ رتبات میں ایک رتبہ ہے جو عَمِيد البحر (commodore) اور سردار (captain) سے بالا تر اور امیرالبحرمقابل (vice admiral) کے تحتی ہوا کرتا ہے۔

اکبر (عہدہ)

اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، میجر ۔

رئیسِ عملۂ جامع

رئیس عملۂ جامع (Chief of the General Staff)، عسکری رتبات میں سے ایک رتبہ ہے جس سے مراد اس رئیس (chief) کی ہوتی ہے کہ جو تمام عملۂ جامع (general staff) پر بلند نگران ہوتا ہے۔

سالار

عسکریہ میں سالار کا لفظ ایک رتبے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے انگریزی میں marshal / مارشل کہا جاتا ہے۔ اردو میں سالار کے دیگر استعمالات بھی پائے جاتے ہیں اور مفہوم کے لحاظ سے اس لفظ معنی قائد یا حربی راہنما کے لیے جاتے ہیں، بعض اوقات اسے مکمل صورت میں سپہ سالار اعظم بھی لکھا جاتا ہے۔

سالار المیدان

سالار المیدان اصل میں عسکریہ کے شعبے ارضیہ (army) میں پایا جانے والا ایک بالا ترین رتبہ ہے جسے انگریزی میں فیلڈ مارشل / Field marshal کہا جاتا ہے، یعنی یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ آرمی یا میدانی (field) فوج کا سپہ سالار اعظم (marshal) ہی اصل میں سالار المیدان کہلایا جاتا ہے۔ اسی بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کے ---- میدان ---- کے سالار کو سالار المیدان کہا جاتا ہے۔

سربراہ پاک فضائیہ

قائد عوام ذو الفقار علی بھٹوؒ کے آئین 1973ء میں صدرِ پاکستان کو عسکریہ پاکستان کے سالارِ خاص کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے جسے وہ وزیر اعظم کے باہمی مشورے سے استعمال کرتا ہے۔

پاک فضائیہ کا سربراہ اب 1973ء کے آئین کی رو سے رئیسِ عملۂ پاک فضائیہ (CAS) کہلاتا ہے جو چار ستارہ جنرل ہوتا ہے جسے وزیر اعظم کے باہمی مشورے سے صدر منتخب کرتا ہے اور یہ رئیسِ عسکریہ پاکستان (CJCSC) کے ماتحت کام کرتا ہے۔

عَمِيد البحر

عمید البحر ؛ عسکریہ (military) کے شعبۂ بحریہ میں ایک عہدے کا نام ہے جسے انگریزی میں commodore کہا جاتا ہے۔ عمید البحر اپنے عہدے میں سالار (captain) سے بالائی درجہ اور امیرالبحر (admiral) سے ماتحت درجہ رکھتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (پاکستان)

لیفٹیننٹ جنرل (انگریزی: Lieutenant general)

A Lieutenant general in the پاک فوج is equivalent to a Federal Secretary in the civil service, a امیرالبحرمقابل in the پاک بحریہ and an air marshal in the پاک فضائیہ. A lieutenant general is also called a three-star منصب جامع. Like other armies, this rank is higher than a میجر جنرل and lower than a full منصب جامع.

منصب جامع

اگر یہ آپ کا مطلوبہ صفحہ نہیں تو دیکھیے، جنرل ۔منصب جامع کو انگریزی میں General Officer کہا جاتا ہے جو عیاں ہے کہ جامع (general) اور منصب (officer) سے بنا ہوا ایک مرکب لفظ ہے۔ عام طور پر اس نام یا عہدے کو صرف جامع یا general / جنرل بھی کہا جاتا ہے۔

نقیب

نَقِيب دراصل فوج یا عسکریہ (military) اور پاسبان (police) میں ایک عہدے کا نام ہے جسے انگریزی میں lieutenant کہتے ہیں۔

نقیبِ نائب

نَقِيب نائب ؛ عسکریہ (military) کے شعبۂ بحریہ میں ایک عہدے کا نام ہے جسے انگریزی میں sub-lieutenant کہتے ہیں۔ بعض ممالک میں مختلف صورت حال سے قطع نظر ؛ نقیب نائب عام طور پر بحریہ میں ایک اختیاری (commissioned) يا ماتحت منصب (subordinate officer) ہوتا ہے جو اپنے عہدے میں نقیب (lieutenant) کے نائب یا ماتحت حیثیت رکھتا ہے۔

پاک بھارت جنگ 1971ء

حکومت پاکستان کے متنازع اقدامات کے باعث بنگالی علیحدگی پسندوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے مشرقی حصے میں علیحدگی کی تحریک مکتی باہنی شروع کی جو بعد میں ایک تشّدد پسند گوریلہ فورس میں تبدیل ہو گئی۔ بھارت نے اس سنہری موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا پاکستان کی اندرونی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھایا اور مکتی باہنی کی کھل کر سیاسی و فوجی حمایت شروع کی اور اِسی دوران بھارتی نے مشرقی پاکستان کے دفاعی نظام کا بغور معائنہ کیا اِس وقت بھارتی فوج کو پاکستانی فوج کے مقابلے میں کئی آسانیاں دستیاب تھیں جن میں زیادہ تعداد، زیادہ اصحلہ، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے مغربی پاکستان بُرے تعلقات (جو مشرقی پاکستان میں بھارت کی بلا وجہ مداخلت کے باعث تھے) شامل تھے۔ اِس کے علاوہ پاکستانی فوج کو مشرقی پاکستان (جو اب پاکستان ہے ) سے مغربی پاکستان( بنگلہ دیش) تک جانے کے لیے بہت لمبا سفر طے کرنا پڑتا تھا اور پاکستان کے پاس ڈھاکہ کے قریب موجود صرف ایک ائیر فیلڈ موجود تھا جس کے ذریعے پاکستان کے 14 سیبر جہاز لڑے جبکہ بھارت کے پاس 5 ائیر فیلڈ موجود تھے جن کے ذریعے بھارت نے اپنے 11 لڑاکا طیارے جنگ میں اُتارے جن میں 4 ہنٹر ایک SU-7اور 3 عدد Gnatاور 3 عدد MIG-21 طیارے شاامل تھے۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان مشرقی پاکستان سے بد دل ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔ مشرقی پاکستان کی افواج بھارت کے ساتھ اتحاد کرنا چاہ رہے تھے اِس لیے انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اِں کے ہتھتار ڈال دینے کی وجہ سے بھارت نے 90،000 پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنا لیا

نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کے اختتام پر نوّے ہزار پاکستانی فوجی ھتیار ڈال کر بھارتی قید میں جاچکے تھے اور اِن کی زندگی کے لیے پاکستان کو امریکا نے اور چین نے جنگ بندی کے لیے کہا جب پاکستان نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تو پاکستان کے فوجی آفسر سے ایک امریکی ساختہ دستاویز پر دستخط کروائے گئے جس کو بنیاد بنا کر بھارت نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور دستخط کر کے اپنی ہار تسلیم کر لی۔ حالانکہ پاکستان کے جنگ بندی پر عمل کرنے کی وجہ سے پاکستانی علاقوں کو واپس کر دیا گیا تھا لیکن مشرقی پاکستان نے واپسی کی بجائے ایک نئے ملک کے طور پر آزاد ہونے کی ٹھان لی ۔ اور اس طرح مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پربنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے نمودار ہوچکا تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو حصوّں میں تقسیم ہوگٰی۔

پاک بھارت فوجی محاذ آرائی 2016ء–2018ء

29 ستمبر 2016ء سے جاری بھارت اور پاکستان کے درمیان میں فوجی تصادم ہے۔ بھارت نے دعوی کیا تھا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے پار آزاد کشمیر میں عسکریپ پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں پر گھس کر حملہ کیا اور "انتہائی نقصان" پہنچایا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے جانی نقصانات کے اعداد و شمار کو 35 سے 50 تک کی تعداد رپورٹ کی۔پاکستان نے یہ دعوی مسترد کر دیا، اور کہا کہ بھارتی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کو پار نہیں کیا تھا بلکہ سرحد ہی پر پاکستانی فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی ہلاکت اور نو زخمی ہوئے۔ پاکستان نے مزید کسی قسم کی ہلاکتوں کی بھارتی رپورٹوں کو مسترد کر دیا۔ پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ تصادم میں کم سے کم 8 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور ایک کو گرفتار کیا گیا۔ بھارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کا ایک فوجی پاکستانی حراست میں ہے، لیکن اس بات سے انکار کیا کہ اس فوجی کا اس حملے سے کوئی تعلق تھا یا اس حملے میں کوئی بھارتی فوجی ہلاک ہوا۔ پاکستان نے کہا کہ بھارت اپنی ہلاکتوں کو چھپا رہا ہے۔میڈیا آؤٹ لیٹس نے بتایا کہ "حملے" کے سلسلے میں تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ اس سے قبل اسی مہینے، چار عسکریت پسندوں نے بمقام اوڑی، جموں و کشمیر 18 ستمبر کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھارتی فوج پر حملہ کیا تھا، جس میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ شکوک و شبہات اور متنازع اکاؤنٹس کے درمیان میں بھارتی حکومت نے پہلی بار 29 ستمبر کو اعلان کیا کہ اس نے لائن آف کنٹرول کو پار کر کے حملہ کیا ہے۔ اس عرصے میں۔ پاکستان اور بھارت کی افواج کے سرحدوں پر تنازعات چلتے رہے ہیں۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.