اشیاء

معاشیات کی رو سے کوئی بھی چیز جس میں کوئی افادہ پایا جائے شے کہلاتی ہے۔ اس شے کی بازار میں کوئی قیمت بھی ہوتی ہے۔ اشیاء کو انگریزی میں Goods کہا جاتا ہے۔

آثار نبوی

آثار اثر کی جمع ہے، اس کے متعدد معانی ہیں جن میں سے ایک معنی ہے کسی شے یا خبر کا بقیہ یا باقی ماندہ۔اصطلاح میں اس سے مراد تبرکات لیے جاتے ہیں اور اکثر سیرت نگاروں نے آثار نبوی کی تعظیم کے عنوان قائم کیے ہیں۔ مثلاً سیرت ابن کثیر میں درج ذیل عنوان سے باب قائم کیا گیا ہے : 《مَا يُذْكَرُ مِنْ آثَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ》

نیز امام بخاری نے ایک باب قائم کیا ہے 《رسالت مآب ﷺ کی زرہ عصا تلوار پیالہ اور انگوٹھی اور آپ کے بعد خلفاء کے عہد میں غیر تقسیم شدہ اشیاء نیز موئے مبارک نعلین شریف اور ان برتنوں کے استعمال کا بیان جن سے آپ کے اصحاب اور دوسرے حضرات آپ کی وفات کے بعد برکت حاصل کرتے تھے۔ 》

حضرت انس نے موئے مبارک، نعلین شریفین اور ایک لکڑی کا پیالہ جو چاندی کے تاروں سے جوڑاہوا تھاان تینوں آثار متبرکہ کو اپنے گھر میں محفوظ رکھا تھا۔

آکسیجن

'دبیز متن'آکسیجن ایک کیمیائی عنصر ہے جس کا جوہری نمبر 8 ہے اور اِسے انگریزی حروف تہجی کے حرف O سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ہم اکسیجن کو نہیں دیکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک بیرنگ، بیسواد اور بے گند گیس ہے۔ اس کی تلاش، حصول یا ابتدائی تعلیم میں جے پريسٹلے اور سی ڈبلیو شے لے نے اہم کام کیا ہے۔ یہ ایک طبعی عناصر ہے۔ 1772 میں کارل شيلے نے پوٹے شيم نائٹریٹ (KNO3) کو گرم کر کے اكسيجن گیس تیار کی، لیکن ان کا یہ کام سن 1777 میں شائع ہوا۔ 1774 میں جوزف پرسٹلے نے مركيرك - اكساڈ (HgO) کو گرم کر کے اكسيجن گیس تیار کیا۔ اے نٹوني لے ووجير نے اس گیس کے خصوصیات کو بیان کیا اور اس کا نام اكسيجن رکھا، جس کا مطلب ہے "تیزاب پیدا کرنے یا بنانے والا".

اسلحہ نبوی

نبی کریمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسلحہ میں کئی تلواریں بھی تھیں جو تاریخ میں اپنے ناموں سے جانی جاتی ہیں۔

القہار

القہار اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔

القہار کے معنی ہیں قہر والا،غالب

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ترجمہ: وہ (اللہ) بندوں سے اوپر ہے اور ان پر غالب ہے اور وہ حکمت و دانائی والا ہے۔ اور (ہر چیز )کی خبر رکھنے والا ہے۔ (الفتح : 11)

وہ قہار ہی ہے۔ تبھی گردنیں اس کے لیے جھک گئیں اور بڑے بڑے دنیاوی ظالم ذلیل و رسوا ہو گئے۔ اور بڑے ہی (با وقار) چہرے اس کے سامنے بجھ جاتے ہیں تمام مخلوقات اس کے سامنے پست ہو گئیں۔ اور تمام اشیاء نے اس کے جلال و عظمت و کبریائی اور اس کی قدرت کو مان لیا۔ اور اس کے سامنے تمام اشیاء کمزور اور ساکن ہو گئیں اور اللہ کی حکمتوں اور اس کے غلبہ کی وجہ سے دب گئیں۔ ۔قہار کا مطلب ہے جو اپنے ظالم اور جابر دشمنوں کا غلبہ توڑے ان کو ذلیل کرے، بلکہ وہ جس کے قہر و غضب اور قدرت کے سامنے ہر موجود شے بے بس ہو اور اس کے قبضہ میں عاجز ہو۔

المحصی

المحصی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔

المحصی کے معنی ہیں اپنے علم اور شمار میں رکھنے والا۔

وہ جو ان بے شمار اشیاء کا شمار رکھتا ہے جن کا شمار ممکن نہیں اور ہر چیز سے باخبر ہے۔

ایریزونا

ریاستہائے متحدہ امریکا کی ایک ریاست۔ اس کا جنوب مغربی علاقہ صحرا، وسطی علاقہ سطع مرتفع اور شمال مغربی علاقہ ایک وسیع پلیٹو ہے۔ یہاں کا خوفناک درہ Canyon قدرتی عجائب میں شمار ہوتا ہے۔ مشین سازی، غزائی اشیاء اور شیشے کی اشیاء کے کارخانے ہیں۔ تانبا، ریت بجری اور چاندی معدنی پیداوار ہیں۔ ہمفرے پیک اس کا بلندترین مقام ہے۔ بلندی (12670 فٹ)۔

بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت

بین الاقوامی تنظیم برائے معیاریت یا آئیسو (انگریزی:International Organization for Standardization) ایک غیر حکومتی تنظیم ہے جس کا کام دنیا میں مختلف اشیاء یا ناموں کو معیاری بنانا ہے۔

ثقالت

ثقالت، قوتِ ثقل یا کششِ ثقل (انگریزی: gravitation)، وہ قوت جس سے کمیت (Mass) رکھنے والے تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔عام مفہوم میں یہ وہ قوت ہے جس سے زمین تمام اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے (وزن).

اس سلسلے میں بے شمار نظریات ملتے ہیں جن میں سے نیوٹن کا قانون عالمی تجاذب اور البرٹ آئنسٹائن کا نظریۂ اضافیت زیادہ مشہور ہیں۔ عام زندگی میں اس قوت کا احساس ہمیں کسی چیز کے وزن کی صورت میں ہوتا ہے۔ اصل میں زمین پر گرنے والے اجسام زمین کی کشش کی وجہ سے گرتے ہیں۔ زمین کی کمیت اس پر گرنے والی اشیاء کی نسبت بہت زیادہ ہے اس لیے اشیاء کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس قوت کو ہم وزن کی شکل میں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے ہم زمین کے مرکز سے دور ہوں تو وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ زمین پر وزن رکھنے والی اشیاء بھی زمین کو اپنی طرف کھینچتی ہیں مگر زمین کے مقابلے میں یہ قوت اس قدر کم ہوتی ہے کہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی۔ کشش کی یہی قوت ہے جس کی وجہ سے زمین اور دیگر سیارے سورج کے ارد گرد گھومتے ہیں اور نظامِ شمسی اور دیگر نظام قائم ہیں۔ کائنات میں ہر طرف یہ قوت کار فرما ہے۔ زمین پر اجسام کا قائم رہنا، مدوجذر، مادہ کے اجزاء کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہ کر بڑے بڑے اجسام بنانا سب کششِ ثقل کی وجہ سے ہیں۔

حقیقت

حقیقت، اشیاء، مادے یا معاملات بارے اس حالت کو کہتے ہیں جب وہ واقعی موجود ہوں۔ حقیقت، ابہام سے خالی حالت کا نام ہے۔ حقیقت کی جمع حقائق ہے جس کی جامع تعریف کچھ ایسے ہے؛

اشیاء یا معاملات کی وہ حالت جب وہ واقعی موجود ہوں اور ان کی موجودگی کسی بھی طرح کے ابہام سے خالی ہو۔

ایک ایسی شے کا نام حقیقت ہے جو دیکھی گئی ہو یا پھر واقعی محسوس کی گئی ہو۔

حقیقت کسی بھی شے بارے واقعتاً موجود ہونے کا نام ہے جس کا معاملات یا طرز زندگی میں کسی بھی طرح سے دخل ہو۔

کسی بھی شے کا موجود ہونا اور اس بارے نہ صرف گواہی کا موجود ہونا بلکہ کسی بھی وقت اور حالت میں پیش کی جا سکتی ہو، حقیقت کہلاتی ہے۔اس طرح حقیقت کی وسیع تعریف میں ہر وہ شے داخل ہے جس کا وجود ہو، رہا ہو یا پھر وہ مشاہدے کے لیے دستیاب ہو یا پھر اسے کے مشاہدے بارے ماضی میں کوئی ثبوت ہو اور اس کے بارے میں منطقی رائے قائم کی جا سکتی ہو۔

خام ملکی پیداوار

کسی مخصوص مدت (عموماً مالیاتی سال) کے دوران کسی ملک کی حدود میں پیدا ہونیوالی تمام اشیاء اور خدمات کی بازار میں موجود قدر (مارکیٹ ویلیو) خام ملکی پیداوار (GDP - Gross Domestic Product) کہلاتی ہے۔ یہ معاشی ترقی کا سب سے اہم شماریاتی اشاریہ ہے۔ اس میں وہ اشیاء اور خدمات شامل نہیں ہیں جو اس ملک کے شہری غیر ممالک میں پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم اس میں وہ اشیاء اور خدمات شامل کر دیں جو اس ملک کے شہری غیر ممالک میں پیدا کرتے ہیں اور وہ پیداوار تفریق کریں جو غیر ملکی اس ملک میں کر رہے ہیں تو اسے خام قومی پیداوار (GNP - Gross National Product) کہتے ہیں۔

تمام ممالک کی فہرست مع مکمل مواد کے لیے دیکھیں۔۔ فہرست ممالک بلحاظ خام ملکی پیداوار

ذوالفقار (تلوار)

ذو الفقار علی بن ابی طالب کی مشہور تلوار کا نام۔ اس تلوار کو تاریخی طور پر تصاویر اور اسلامی پرچموں میں ایسی دو دھاری تلوار کے طوپر پر پیش کیا جاتا رہا ہے جس کی نوک قینچی نما ہوتی ہے۔ عام طور پر شیعہ اسلام میں اسے طلسمی اور ہلالی صورت والی تلوار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

ذو لفظ نسبت ہے اور فقار کا مطلب ہے دھار والی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ لا سيف الا ذوالفقار

روزہ

روزہ بنیادی طور پر کسی مذہبی حکم کی بنا پر کسی خاص کام کرنے، چیز استعمال کرنے، خاص کھانے یا تمام کھانے، پینے کی اشیاء سے مخصوص وقت تک خود کو اپنی مرضی سے روکے رکھنے کا نام ہے۔

اسلام میں دن بھر تمام کھانے، پینے کی اشیاء سے اور دیگر چند کاموں سے مخصوص وقت تک خود کو اپنی مرضی سے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔

مسلمانوں پر، اسلامی مہینے رمضان میں پورا مہینہ روزے رکھنا فرض ہے۔ روزہ ہر دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی یا توہماتی نظریات کی وجہ سے رکھا جاتا رہا ہے۔ ہر قسم کے کھانے، پینے اور جماع کرنے سے رکنے کا روزہ اس وقت صرف اسلام میں ہے، باقی مذاہب میں مخصوص ایام میں ہی روزہ رکھا جاتا ہے اور اس میں کچھ چیزوں کی پابندی ہوتی ہے کچھ کی اجازت۔ مسیحیت میں روزہ ایک اختیاری چیز ہے۔ یہودیت کے تمام فرقوں میں جیسے طریقہ عبادت الگ ہوتی ہے اسی طرح ہر فرقے میں روزے بھی الگ الگ مخصوص ایام میں رکھے جاتے ہیں۔

ریاضی

ریاضی دراصل اعداد کے استعمال کے ذریعے مقداروں کے خواص اور ان کے درمیان تعلقات کی تحقیق اور مطالعہ کو کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ساختوں، اشکال اور تبدلات سے متعلق بحث بھی کی جاتی ہے۔ اس علم کے بارے میں گمان غالب ہے کہ اس کی ابتدا یا ارتقا دراصل گننے، شمار کرنے، پیمائش کرنے اور اشیاء کے اشکال و حرکات کا مطالعہ کرنے جیسے بنیادی عوامل کی تجرید اور منطقی استدلال (logical reasoning) کے ذریعہ ہوا۔

ریاضی داں ان تصورات و تفکرات کی جو اوپر درج ہوئے ہیں چھان بین کرتے ہیں اور ان سے متعلق بحث کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نئے گمان کردہ خیالات (conjectures) کے لیے صیغے (formulae) اخذ کرنا اور پھر احتیاط سے چنے گئے مسلمات (axioms)، تعریفوں اور قواعد کی مدد سے ریاضی کے اخذ کردہ صیغوں کو درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔

فلسفہ

لفظ فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔

تعریف: فلسفہ ایسے علم کو کہتے ہیں جس علم میں اشیاء کے وجودات خارجی و حقیقی کے متعلق انسانی قوت کے مطابق بحث کیا جاتا ہے۔

موضوع : موجودات خارجیہ یعنی دنیا میں موجود چیزیں

غرض : دنیا میں موجود چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔

فلسفہ کسی بھی شیء کے متعلق اٹھنے والے بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے۔ اب اگر وہ دین ہو تو فلسفہ دین، اگر تاریخ ہو توفلسفہ تاریخ، اگر اخلاق ہو تو فلسفہ اخلاق، اگر وجود ہوتو فلسفہ وجود کہا جاتا ہے وغیرہ۔

پشتو کا اک شعر ہے کہ"حقیقت ته هر ثه سپڑہ بس ہم دغه فلسفه ده

دمزهب تیل چی تری لر کی فلسفه بیا مڑہ ڈیوا دہ"اردو ترجمہہر چیز کی حقیقت دیکھو بس یہی فلسفہ ہے

مذہب کاتیل اگر فلسفے سے نکال دے تو پھرفلسفہ بجھاہواچراغ ہے۔فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اعراض اور مقصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیا کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔

فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباًً تمامی علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفے کے عطایا ہیں۔

متحف نبوی

متحف نبویصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب عجائب گھر۔ اس سے مراد وہ عجائب گھر ہے جس میں رسول اللہ کے متعلق تاریخی اور قدیم اشیاء محفوظ کی گئیں ہیں۔

مساوی قوت خرید

مساوی قوتِ خرید (Purchasing Power Parity) ایک نظریہ ہے جو گستاف کیسل نے 1920ء میں پیش کیا تھا۔ اس میں ممالک کے زر مبادلہ کی لمبے عرصے کی شرح تبادلہ کو استعمال کر کے کسی زر مبادلہ کی حقیقی شرح تبادلہ کو اخذ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ایک درست کام کرنے والی منڈی میں چیزوں کی قیمتیں ایک جیسی ہو جائیں گی۔ چنانچہ حقیقی شرح تبادلہ اخذ کرنے کے لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ دو ممالک میں ایک جیسی اشیاء ان ممالک کے کتنے روپیہ میں خریدی جا سکتی ہیں۔ مثلاً امریکا میں ایک ڈالر میں جتنی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں وہ کتنے پاکستانی روپے میں خریدی جا سکتی ہیں۔

مساوی قوتِ خرید شرح تبادلہ کے بارے میں آسان الفاظ میں یہ سمجھ لیں کہ مثال کے طور پر اگر پاکستانی روپیہ کی شرح تبادلہ ڈالر کے ساتھ 60 روپے فی ڈالر ہے مگر پاکستان میں 40 روپے میں اتنی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں جتنی ایک امریکی ڈالر میں، تو شرح تبادلہ 40 روپے کے حساب سے آمدنی کو ڈالر میں تبدیل کیا جائے گا نہ کہ اصل شرحِ تبادلہ میں۔ اس سے عوام کی درست قوتِ خرید کا اندازہ ہو سکے گا۔ اسے مساوی قوتِ خرید شرح تبادلہ کہا جائے گا۔

کیماڑی ریلوے اسٹیشن

کیماڑی ریلوے اسٹیشن پاکستان کے شہر کراچی میں واقع ہے۔ کیماڑی میں جزیرہ نما منوڑہ تک جانے کے لیے لانچ اور کشتیوں کی سہولت بھی ہے۔ اشیاء اور تیل کی بندرگاہیں بھی کیماڑی کے نزدیک ہی واقع ہیں۔

کیمیا

کیمیا (chemistry) سائنس کی وہ شاخ جو مادے کی ترکیب(composition)، ساخت، خواص اور مادوں کے تعاملات (reactions) سے متعلق ہے۔ اس شعبہ علم میں خاص طور پر جوہروں کے مجموعات ؛ مثلا سالمات اور ان کے تعملات، قلموں (crystals) دھاتوں سے بحث کی جاتی ہے۔ کیمیا میں ان مذکورہ اشیاء کی ساخت اور پھر ان کی نئے مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ اور ان کے تفاعل (interaction) کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔ اور جیسا کہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب مادے کا بڑے پیمانے (یعنی سالمات اور قلمیں وغیرہ کے پیمانے) پر مطالعہ کیا جائے گا تو جوہر یا ایٹم یعنی باریک پیمانے پر مادے کا مطالعہ بھی لازمی ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ کیمیا میں جوہروں کی ساخت اور ان کے آپس میں تعملات اور روابط کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

گنی (خطہ)

گنی اس خطے کا روایتی نام ہے جو افریقا میں خلیج گنی کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ یہ شمال میں جنگلی علاقوں سے شروع ہوکر ساحل کے علاقوں پر ختم ہوتا ہے۔

تاریخی طور پر یہ پہلا علاقہ ہے جہاں سے یورپ سے تجارت شروع ہوئی۔ ہاتھی دانت، سونے اور غلاموں کی تجارت نے اس خطے کو خوشحال بنا دیا۔ 18 ویں اور 19 صدی میں کئی مرکزی سلطنتیں ادھر حکومتی کرتی تھیں۔ حالانکہ یہ ساحل کے علاقوں کی وسیع حکومتوں کے مقابلے میں کافی چھوٹی تھیں لیکن یہاں کثافت آبادی بہت زیادہ تھی اور یہ حکومتیں زیادہ مستحکم اور ترقی یافتہ تھیں۔ اسی لیے جب یورپی قابض قوتوں نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کی ٹھانی تو انہوں افریقہ میں سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا انہی ریاستوں میں کرنا پڑا۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگا جاسکتا ہے کہ 19 ویں صدی کے اواخر تک گنی کا بیشتر علاقہ یورپی نو آبادیات میں شامل نہ ہو سکا۔

اس خطے کے مزید دو ذیلی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جنہیں زیریں گنی اور بالائی گنی کہا جاتا ہے۔ زیریں گنی افریقہ کے گنجان آباد ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور اس میں نائجیریا، بینن، ٹوگو اور گھانا کے جنوبی علاقے شامل ہیں۔ بالائی گنی، جو نسبتاً کم گنجان آباد ہے، آئیوری کوسٹ سے گنی بساؤ تک پھیلا ہوا ہے۔ تاہم جمہوریہ گنی میں یہ اصطلاح ملک کے ساحلی اور اندرونی علاقوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

یورپی تاجروں اور قابض قوتوں نے تجارتی اشیاء کی بنیاد پر ان علاقوں کو اپنے نام دیے جیسے نائجیریا اور بینن کے علاقوں کو "غلاموں کا ساحل " (Slave Coast) کہا جاتا تھا۔ گھانا کو "سونے کا ساحل" (Gold Coast) کہا جاتا تھا۔ مغرب میں آئیوری کوسٹ (معنی: "ہاتھی دانت کا ساحل") واقع ہے جو آج تک اس ملک کا نام بھی ہے۔ مزید مغرب میں لائبیریا اور سیرالیون کے علاقوں کو "مرچوں کا ساحل" (Pepper Coast) اور "اناج کا ساحل" (Grain Coast) کہا جاتا تھا۔

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.