ادوم

ادوم (عبرانی: אֱדוֹם، جدید ʼEdōm ، طبری ʼEḏōm ; , lit.: "red"אֱדוֹם، جدید ʼEdōm ، طبری ʼEḏōm ; , lit.: "red"

[1] اس  علاقے کا زیادہ تر حصہ  اب اسرائیل اور اردن کے درمیان تقسیم ہے . کانسی  دور اور آہنی دور کے سر زمین شام کے تحریری ذرائع میں ادوم ظاہر ہوتا رہا ہے ,جیسا کہ  عبرانی بائبل اور مصری  اور بین النہرین کے رودادوں و دستاویزات میں . عہَدِ عتيق  میں ، قریبی لفظ  نام ادومیہ  اس اسی خطہ کے چھوٹے سے مختلف علاقے کو کہا جاتا تھا ۔

ادوم اور ایدومیہ    دو  الگ لیکن متعلقہ اصطلاحات ہیں  جن کا تعلق ایک تاریخی  -مُتصل لیکن  الگ الگ آبادی سے ہے ، اگرچہ ملحقہ , وہ خطے جہاں تاریخ کے مختلف ادوار میں ادومی اور ایدومی لوگ رہتے رہے ہیں -  ادومیوں نے  پہلے  جدید اردن کے جنوبی علاقے ("یدوم") میں سلطنت قائم کی اور بعد میں   سلطنت یہودا  کے جنوبی حصوں("ایدومیہ", یا جدید جنوبی اسرائیل/صحرائے نقب ) کیجانب ہجرت کی - جب بابلیوں نے  یہوداہ کو پہلے کمزور اور پھر تباہ کیا 6 ویں صدی قبل مسیح میں -

مملکت ادوم
𐤀𐤃𐤌
بادشاہت
 13ویں  صدی ق م–125 ق م
Location of ادوم
زرد رنگ میں  ظاہر کردہ ادوم کا خطہ  830 ق م میں 
دار الحکومت بترا
سیاسی ڈھانچہ بادشاہت
تاریخ
 - قیام  13ویں  صدی ق م
 - ملوکیت ہشمونیہ  125 ق م
موجودہ ممالک Flag of Israel.svg اسرائیل
Flag of Jordan.svg اردن
Warning: Value specified for "continent" does not comply
Edom
نقشہ: بادشاہت ادوم (سرخ رنگ میں) اپنے سب سے بڑی حدود میں ، . 600 قبل مسیح. 

نوٹ

  1. Empty citation (معاونت)
آل ابراہیم

آل ابراہیم سے مراد ہیں۔ اسماعیل ( علیہ السلام)، اسحاق ( علیہ السلام)، یعقوب ( علیہ السلام)، اسباط ( علیہ السلام) اور تمام اسرائیلی پیغمبر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی گئی کہ ان میں انبیا و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے حتیٰ کہ کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہوئے۔

ابراہیم

ابراہیم (عبرانی: אַבְרָהָם، جدید اوراہم ، طبری ابراہام, عربی: إبراهيم)، اصلاً اورام یا ابرام (عبرانی: אַבְרָם، جدید ʾAvram ، طبری ʾAḇrām) تین ابراہیمی مذاہب (یہودیت، مسیحیت اور اسلام) کی ایک برگزیدہ شخصیت ہیں۔ خدا اور یہودیوں کے درمیان خاص تعلقات قائم کروانے کی وجہ سے وہ یہودیت میں ”میثاق“ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ مسیحیت میں انہیں تمام معتقدین (یہودیوں و غیر یہودیوں) کا نقش اول تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام میں وہ تمام انبیا کے باپ (ابو الانبیاء) ہیں۔

اسحاق (اسلام)

پیغمبر۔ قرآن مجید کی سورہ ہود، حجر، زاریات، انعام،بقرۃ میں آپ کا مجملاً ذکر ہے۔ سورہ مریم (آیہ 49) اور سورہ الصفت (آیہ 112) کے مطابق آپ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ بائبل کے مطابق آپ ابراہیم کے چھوٹے بیٹے تھے اور سارہ آپ کی والدہ تھیں۔ آپ پیدا ہوئے تو ابراہیم کی عمر 100 سال اور سارہ کی 90 سال تھی۔ جائے پیدائش و وفات سرزمین شام ہے۔

بائبل نے اسحاق کو ذبیح اللہ کہا ہے۔ قرآن کی سورہ الصفت میں بھی بھی ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کا تذکرہ ہے، مگر ان کے کسی فرزند کا نام مذکور نہیں۔ علمائے اسلام کی اکثریت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ اسحاق نہیں۔ اسماعیل تھے۔ اسحاق کی شادی ابراہیم کے بھائی نحور کی پوتی ربیقہ سے ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس کی تھی۔ آپ کی دعا سے بیس سال بعد جڑواں لڑکے عیسو اور یعقوب پیدا ہوئے۔ عیسو سے بنی ادوم اوریعقوب سے (جن کا لقب اسرائیل تھا ) بنی اسرائیل کی نسل چلی۔ اسحاق نے 180 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ بعض محققین نے آپ کے زمانے کا تعین 23 ویں صدی قبل مسیح کیا ہے۔

بزرگ (بائبل)

بائبل کے بزرگ یا پیٹری آرک (عبرانی: אבות‎ آووت یا ابوط، واحد عبرانی: אב‎ اب یا آرامی: אבא ابا) ابراہیم، اس کا بیٹا اسحاق اور اسحاق کا بیٹا یعقوب جس کو اسرائیل بھی کہتے ہیں، جو بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد میں سے ہیں۔ یہ تین یہودیت کے پیٹری آرک ہیں اور جس دور میں وہ رہے اس دور کو قرونِ پیٹری آرک کہتے ہیں۔ انہوں نے عبرانی کتاب مقدس میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ اور ابراہیمی مذاہب میں بھی اس عمل کو جاری رکھا۔

زیادہ وسیع پیمانے پر، اصطلاح پیٹری آرک بیس مرد آباؤ اجداد کے لیے استعمال کی جاتے ہے، جو ادم اور ابراہیم کے درمیانی نسل کے تھے۔ شروع کے دس افراد کو طوفان نوح سے قبل کے پیٹری آرک کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ طوفان نوح سے پہلے کے تھے۔

اسلام اور یہودیت کے مطابق پیٹری آرک کے ہمراہ ان کے بیویاں شاہ مادر ہیں – سارہ (زوجہ ابراہیم)، ربیکا (زوجہ اسحاق) اور لیاہ (یعقُوب کی بیویوں میں سے ایک) – یہ تمام ابراہیمی مسجد حبرون میں مدفون ہیں۔ اس جگہ کو یہودیوں، مسلمانوں اور مسیحیوں نے تعمیر کیا تھا۔ صرف راحیل (یعقُوب کی محبوب بیوی) کی الگ تدفین کی گئی تھی جس مزار کو مقبرہ راحیل کہا جاتا ہے جو بیت لحم کے قریب واقع ہے۔ اس مقام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ راحیل نے بچہ کی پیدائش کے دوران یہاں وفات پائی تھی۔

بصیرا

بصیرا ( عربی: بصيرا) اردن کا ایک آباد مقام و گاؤں جو محافظہ طفیلہ میں واقع ہے۔

تارح

تارح یا آزر کے متعلق بعض علما نے فرمایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تھا، بعض نے فرمایا کہ والد نہیں چچا کا نام تھا والد کا نام تارخ تھا جو مسلمان تھے اور بعض نے فرمایا کہ آزر بت کا نام تھا۔

سلع (ادوم)

سلع اردن کا ایک آباد مقام جو بصیرا میں واقع ہے۔

سلیمان (بادشاہ)

سلیمان (/ˈsɒləmən/؛ عبرانی: שְׁלֹמֹה، جدید Shlomo ، طبری Šəlōmō Šlomo؛ سریانی: ܫܠܝܡܘܢ Shlemun؛ عربی: سُليمان Sulaymān، Silimān یا Slemān؛ یونانی: Σολομών Solomōn؛ لاطینی: Salomon) جدیدہ( بھی کہلاتے ہیں، عبرانی:יְדִידְיָהּ) بائبل، کتاب سلاطین اول 1-11، (کتاب تواریخ اول 28-29، تواریخ 1-9)، قرآن، حدیث اور قرآن میں مختلف اشاروں کے مطابق سلیمان بے تحاشہ امیر اور عقلمند اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ اور داؤُد (سابقہ بادشاہ اسرائیل) کا بیٹا تھا۔

سلیمان کا بادشاہت کا دور مختلف روایات کے مطابق 970 ق۔ م سے 931 ق۔ م تھا۔

شاہراہ شاہ

شاہراہ شاہ (انگریزی: King's Highway) (عربی: الطريق الملوكي أو طريق الملك) قدیم مشرق قریب میں ایک تجارتی گزرگاہ تھی جو افریقا کو بین النہرین سے ملاتی تھی۔ یہ مصر سے شروع ہو کر جزیرہ نما سینا سے ہوتے ہوئے عقبہ تک جاتی تھی، جہاں سے یہ مڑ کر شمالی سمت میں شرق اردن سے ہوتے ہوئے دمشق اور دریائے فرات تک جاتی تھی۔

مسلمانوں کی زرخیز ہلال کی فتح کے بعد ساتویں صدی سے سولہویں صدی یہ حج اور زائرایں کے لیے استعمال ہوتی تھی جس سے سوریہ اور عراق سے حجاج مکہ کے لیے سفر کرتے تھے۔

طفیلہ

طفیلہ ( عربی: مدينة الطفيلة) اردن کا ایک رہائشی علاقہ جو محافظہ طفیلہ میں واقع ہے۔

عاموس

عاموس (عبرانی:עָמוֹס بہ معنی "دوست") کتاب عاموس کے مصنف اور بنی اسرائیل کی بارہ انبیائے صغیر میں سے ایک نبی تھے۔ عاموس بیت اللحم، یروشلیم میں پیدا ہوئے۔ وہ بڑا زلزلہ آنے سے دو سال پہلے، جب اسرائیلی قبیلوں پر یربعام دوم کی حکومت تھی اور سلطنت یہودیہ کا فرمانروا عزیاہ تھا، منصب نبوت پر فائز ہوئے۔ روایات میں سال ۷۶۳ قبل مسیح کو ان کے دور نبوت کے آغاز کا سال قرار دیا جاتا ہے اور روایات کے مطابق اس سے پہلے وہ چرواہے تھے، گلہ بانی کرتے، جانوروں کو چرواتے اور گولر کا پھل کاشت اور فروخت کرتے تھے۔ عاموس بنی اسرائیل کی مذہبی عبادت گاہ بیت ایل میں اپنی منصبی خدمات انجام دیتے تھے۔ بعد میں ان پر یربعام کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا جس پر یہودیوں کے کاہن اعظم امصیاہ نے انہیں دھمکایا۔ عاموس قبائل ارام، فلسطین، صور، ادوم، عمون، موآب، یہوداہ اور اسرائیل پر قاضی رہے۔ اور انہوں نے بت پرستی، تجمل‌ پرستی اور رشوت‌ خوری کو گناہ اور ممنوع قرار دیا۔ عاموس اپنے فرائض منصبی انجام دینے کے بعد یہودیہ واپس آ گئے اور وہیں فوت ہوئے۔

اگرچہ عاموس کا تعلق سلطنت اسرائیل کے جنوبی علاقے سے تھا، لیکن انہوں نے اپنے منصب نبوت کے فرائض کو بالخصوص شمالی سلطنت اسرائیل کے باشندوں کے لیے انجام دیا۔ اور خود کو ان کے لیے وقف کر دیا۔ خصوصا سامریہ اور بیت ایل کے شہروں میں۔عاموس وہ پہلے نبی تھے جو وہ سارے پیغامات لکھتے تھے، جو ان پر وارد ہوتے تھے۔ ان کی زبان کی پاکیزگی، ان کا انداز تکلم و تعلم اور شاعرانہ انداز ہمیشہ بے حد سراہا گیا۔ ان سب حوالوں کی وجہ سے انہیں یسعیاہ کا روحانی پرتو گردانا گیا۔

عبدیاہ

عبَدیاہ (عبرانی:עבדיה لغوی معنی «خدا کا بندہ») بنی اسرائیل کے انبیا اور راہنماؤں میں سے ہیں۔ جن کا نام عہد عتیق میں با رہا ذکر کیا گیا ہے۔ اور انہیں کتاب عبدیاہ کا مصنف خیال کیا جاتا ہے۔

عمالقہ (قوم)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور انہوں نے عہد ِا لٰہی کو فراموش کیا بت پرستی میں مبتلا ہوئے سرکشی اور بد افعالی انتہا کو پہنچی ان پر قوم جالوت مسلّط ہوئی جس کو عمالقہ کہتے ہیں کیونکہ جالوت عملیق بن عاد کی اولاد سے ایک نہایت جابر بادشاہ تھا اس کی قوم کے لوگ مصرو فلسطین کے درمیان بحر روم کے ساحل پر رہتے تھے انہوں نے بنی اسرائیل کے شہر چھین لیے آدمی گرفتار کیے طرح طرح کی سختیاں کیں۔فرعون۔ عمالقہ کے ہر بادشاہ کا لقب تھا۔ جیساقیصر، رومی بادشاہوں کا۔ کسریٰ، فارس کے بادشاہوں کا۔

عمالیق انفر کا بیٹا اور عیص کا پوتا تھا اور اسحاق علیہ السلام کا پڑپوتا ہے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ عمالیق اور دیگر اولاد ابراہیم ملک کنعان اور اس کے اطراف میں بڑے شہ زور تھے۔ عمالیق کی نسل بھی بڑی جنگجو تھی جن کو عمالقہ کہتے ہیں۔

جالوت عمالقہ کا امیر تھا اور ان کا بادشاہ تھا اس کا سایہ ایک میل تھا اور کہا جاتا ہے کہ (قوم) بربر اس کی نسل سے ہے اور اس کے بارے میں روایت ہے کہ اس کی فوج میں تین لاکھ گھڑ سوار تھے اور عکرمہ نے کہا ہے : نوے ہزار تھے

عیسو

نبی اسحاق کے جڑواں بیٹوں میں سے ایک، دوسرے بیٹے کا نام یعقوب تھا جو ایک مشہور نبی ہیں۔ ان کی ماں کا نام ربقہ تھا۔ جو اسحاق کی بیوی تھیں، عہد نامہ قدیم کے بیان کے مطابق اس شادی کے 20 سال تک کوئی اولاد نہ ہوئی، تب اسحاق نے دعا کی، جو قبول ہوئی اور جڑواں بیٹے ہوئے۔ عیسو نبی نہیں تھا بلکہ عہد نامہ قدیم کی کتاب ملاکی میں ہے کہ، خدا نے اس سے عداوت رکھی اور عہد نامہ جدید میں عبرانیوں کے نام خط کے مطابق وہ لادین تھا۔ اسلام میں بھی عیسو نام کے کسی نبی کا ذکر نہیں، لیکن مسلمان عہد نامہ قدیم میں عیسو اور یعقوب نبی کی دشمنی کے واقعات اور جانشینی کے اس واقعہ کو قبول نہیں کرتے۔

قادش برنیع

قادش (عبرانی: קָדֵשׁ معنی مقدس) یا قادش برنیع (عبرانی ؛קָדֵשׁ בַּרְנֵעַ معنی سرگردانی کا بیابان مقدس) عبرانی بائبل میں بارہا مذکور ایک بیابان جو جزیرہ نما سینا کے شمال مشرق اور بیر سبع کے جنوب میں قدیم سرزمین اسرائیل کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔ قادش برنیع شمال میں صحرائے سین میں واقع نیجب اور جنوب میں صحرائے فاران سینا کے مابین ایک خطہ ہے۔ یہ وہی بیابان ہے جہاں بنی اسرائیل چالیس سال تک مارے مارے پھرتے رہے۔ وہ قادش سے فاران کی طرف جاتے تھے اور پھر وہاں سے بحیرہ احمر کی طرف پلٹ آتے تھے۔ مریم (کلثوم) موسی کی ہمشیرہ کا انتقال اسی بیابان میں ہوا تھا اور ان کو اسی میں دفن کیا گیا تھا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں موسی نے اپنا عصا مار کر بنی اسرائیل کے لیے چٹان سے پانی کے چشمے جاری کیے تھے۔ اور یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے موسی نے ادوم کے بادشاہ کے پاس اپنے نمائندے بھیجے کہ وہ انہیں اپنی سلطنت کے علاقے کو پار کرنے کی اجازت دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

یہودی مورخ یوسیفس کے مطابق قادش (جسے اس نے רקם ”رقم“ لکھا ہے) اردن کا علاقہ بترا تھا۔

لیلیت

عفریتِ شب یا لیلیت (/ˈlɪlɪθ/؛ عبرانی: לִילִית‎ لیلیت) کا ذکر کتاب یسعیاہ میں ادوم کی تباہی کے سلسلے میں پایا جاتا ہے۔ مُفسروں کو اس کی تشریح کرنے میں کافی پیش آئی ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ یہودیوں کے بھوت پریت سے متعلق ہے۔ اِس کی بابت عجیب کہانیاں رائج ہیں۔ مثلاً یہ کہ رات کو یہ خوبصورت عورت کی شکل اختیار کرلیتی تھی تاکہ چھوٹے بچوں کو اغوا کر کے تباہ کر دے۔ اس کا تعلق رات سے تھا تب ہی اس کو لیلیت (عربی: الليلة) کا نام دیا گیا۔ تلمود میں یہ روایت ہے کہ حوا کی تخلیق سے پہلے یہ آدم کی بیوی تھی اور اس طرح یہ آسیبوں کی ماں تصور کی جاتی ہے۔

مونٹریال (صلیبی قلعہ)

مونٹریال (عربی: قلعة الشوبك) اردن کا ایک قلعہ جو ادوم میں واقع ہے۔

نحور بن سروج

نحور، نہور، یا ناحور (عبرانی נָחֹור Nāḥōr)، عبرانی بائبل کے مطابق، سروج کا بیٹا تھا۔کتاب پیدائش میں بھی نحور کا سروج کے بیٹا کے طور پر ذکر کیا گیاہے

یعقوب

یعقُوب (/ˈdʒeɪkəb/; عبرانی: יַעֲקֹב، جدید Yaʿakov ، طبری Jaʕăqob ; "heel"; عربی: يَعْقُوب Yaʿqūb) دوسرا نام اسرائیل، ایک بنی اسرائیل کے بزرگ ہیں۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.