ابراہیم پاشا

ابراہیم پاشا جدید مصر کے بانی محمد علی پاشا کا فرزند تھا جو میدان سیاست اور جنگ دونوں میں یکساں صلاحیت رکھتا تھا۔ مصر میں مملوکوں سے لڑا اوران پر فتح پائی۔ جزیرہ عرب میں وہابی تحریک کے علمبرداروں کے خلاف اپنا لوہا منوایا۔ مورہ میں یونانیوں پر اپنی دھاک جمائی اور شام اور اناطولیہ میں ترکوں کو شکست دی۔ ان کامیابیوں اور فتوحات نے سیاسی اثر رسوخ بہت وسیع کر دیا تھا۔

Ibrahim Pasha
Kavalalı İbrahim Paşa
إبراهيم باشا

Wāli of Egypt, Sudan, عثمانی شام (incl. Palestine and شرق اردن (خطہ)), حجاز, Morea, تھاسوس, Crete

Portrait d'Ibrahim Pacha 2
معیاد عہدہ March 2, 1848 – November 10, 1848
پیشرو محمد علی پاشا
جانشین Abbas I
بیویاں
  • Hadidja (Birinci Kadin)
  • Chivekiar
  • Hoshiar Kadinefendi
  • Ülfet
  • Kalzar
  • Sa'aret
نسل Mustafa Fazl Pasha
Muhammad Bey
اسماعیل پاشا
Ahmed Rifa'at
Arabic إبراهيم باشا
Turkish Kavalalı İbrahim Paşa
شاہی خاندان آل محمد علی
والد محمد علی پاشا
والدہ Emina of Nosratli
پیدائش 1789
دراما، یونان, سلطنت عثمانیہ province of Macedonia (part of modern day یونان)
وفات 10 نومبر 1848ء (عمر 58–59)
قاہرہ, ایالت مصر
تدفین November 10, 1848
(11 hours after his death)Mausoleum of Imam al-Shafi'i, قاہرہ, مصر
مذہب اہل سنت حنفی
آل محمد علی

آل محمد علی مصر و سوڈان پر 19 ویں اور وسط بیسویں صدی تک حکمرانی کرنے والا خاندان تھا۔ اسے اپنے جد اعلٰی اور بانی سلطنت محمد علی پاشا کے نام سے آل محمد علی کے طور پر جانا جاتا ہے، جسے جدید مصر کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

ابراہیم (ضد ابہام)

لفظ ابراہیم ذیل کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے :

ابراہیم خدا کے دوسرے صاحب شریعت نبی تھے آپکو بت شکن کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے

اسماعیل پاشا

دورحکومت ( 1863ء 1879ء)

خدیو مصر جس کے عہد میں نہر سویز تعمیر ہوئی۔ ریلیں نکالی گئیں۔ بینک قائم ہوئے اور تجارت کو جدید طرز پر منظم کیا گیا۔ اسماعیل پاشا نے بحری فوج پربے انداز روپیہ خرچ کیا۔ جس کیوجہ سے حکومت مغربی طاقتوں کی مقروض ہو گئی اور برطانیہ نے دباؤ ڈال کر اس قرضے کے عوص نہر سویز کے حصص خرید لیے مغربی طاقتوں کی سازشوں سے ملک میں بے اطمینانی پھیل گئی۔ چنانچہ 1879ء میں اسماعیل پاشا کو معزول کر دیا گیا۔

جنگ نوارینو

-

20 اکتوبر 1827ء کو عثمانی سلطنت اور برطانیہ، فرانس اور روس کی مشترکہ افواج کے درمیان لڑی جانے والی ایک بحری جنگ جس میں شکست کے ساتھ ہی عثمانی سلطنت کا زوال یقینی ہو گیا۔ یہ جنگ یونان کی جنگ آزادی کے سلسلوں کے اہم ترین معرکوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ جنگ خلیج نوارینو کے مغربی ساحلوں پر بحیرۂ آیونین میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں عثمانی سلطنت اور مصر کا بحری بیڑا برطانیہ، فرانس اور روس کے ہاتھوں مکمل تباہی کا شکار ہو گیا۔ یہ تاریخ کی آخری بڑی بحری جنگ تھی جو بادبانی جہازوں کے ذریعے لڑی گئی۔ اس جنگ میں اتحادیوں کی فتح کی سب سے بڑی وجہ ان کے عملے کا بہتر طور پر مسلح اور تربیت یافتہ ہونا تھا جس کے نتیجے میں ایک عظیم فتح ان کا مقدر بنی۔

خدیجہ سلطان (دختر سلیم اول)

خدیجہ سلطان (عثمانی ترکی زبان: خدیجہ سلطان؛ ترکی: Hatice Sultan) عثمانی شہزادی تھی جو سلیم اول اور عائشہ حفصہ سلطان کی بیٹی تھی۔ وہ سلیمان اول کی بہن تھی۔

داماد (عثمانی لقب)

داماد (ترکی: damat؛ ماخذ فارسی: داماد‎) سرکاری عثمانی لقب تھا اور ان مردوں کو دیا جاتا تھا جو عثمانی خاندان کی کسی شہزادی سے شادی کرتے تھے۔

ذیل میں عثمانی خاندان کے دامادوں کی فہرست ہے۔

Çorlulu Damat Ali Pasha، وزیر اعظم (1706–10)

Silahdar Damat Ali Pasha، وزیر اعظم (1713–16)

Bayram Pasha، وزیر اعظم (1637–38)

Koca Davud Pasha، وزیر اعظم (1482–97)

Ebubekir Pasha, کاپودان پاشا (1732–33, 1750–51)

اسماعیل انور پاشا، وزیر جنگ (1913–1918)

Damat Ferid Pasha، وزیر اعظم (1919, 1920)

Damat Halil Pasha، وزیر اعظم (1616–19, 1626–28)

Damat Hasan Pasha، وزیر اعظم (1703–04)

یمشچی حسن پاشا، وزیر اعظم (1601–03)

Küçük Hüseyin Pasha, کاپودان پاشا (1792–1803)

Damat Ibrahim Pasha، وزیر اعظم (1596, 1596–97, 1599–1601)

Nevşehirli Damat Ibrahim Pasha، وزیر اعظم (1718–30)

پارگلی ابراہیم پاشا، وزیر اعظم (1523–36)

Lütfi Pasha، وزیر اعظم (1539–41)

Ibşir Mustafa Pasha، وزیر اعظم (1654–55)

Damat Mehmed Ali Pasha، وزیر اعظم (1852–53)

Öküz Mehmed Pasha، وزیر اعظم (1614–16, 1619)

Gümülcineli Damat Nasuh Pasha، وزیر اعظم (1611–14)

Köprülü Numan Pasha، وزیر اعظم (1710)

رستم پاشا، وزیر اعظم (1544–53, 1555–61)

دور لالہ

دور لالہ (عثمانی ترک زبان: لاله دورى، ترک زبان: Lâle Devri، انگریزی: Tulip Era) سلطنت عثمانیہ کے 1718ء سے 1730ء تک کے دور کا روایتی نام ہے جو نسبتاً پرامن دور تھا۔ اس دور کا نام سلطنت عثمانیہ کے دربار میں حد درجہ پسند کیے جانے والے گل لالہ سے موسوم ہے۔ اس عہد میں نوشہرلی دمت ابراہیم پاشا سلطنت کے صدر اعظم تھے اور یہ پورا دور سلطان احمد ثالث کی حکومت کی بجائے ان کی وزارت کا عہد سمجھا جاتا ہے۔ اس عہد کا خاتمہ 1730ء میں پٹرونا خلیل کی بغاوت کے ساتھ ہوا۔

اس عہد میں دارالحکومت آبنائے باسفورس کے کناروں پر پھیلتا چلا گیا جہاں امرا نے ساحلوں پر اپنی رہائش کے لیے محلات تیار کرائے۔ اس عہد میں عثمانی ثقافت پر مغربی تہذیب کے اثرات کے آغاز ہوا۔ اسی عہد میں مشہور مصور عبد الجلیل لیونی ادرنہ سے استنبول آئے اور اپنے شاندار فن مصوری کے بل بوتے پر شاہی مصور بنے۔ پہلے عثمانی چھاپے خانے کا قیام بھی اسی عہد کی یادگار ہے جو ہنگری کے ایک نو مسلم ابراہیم متفرقہ نے قائم کیا تھا۔

سلیمان اول

سلیمان اول (المعروف سلیمان قانونی اور سلیمان اعظم) (عثمانی ترکی زبان: سلطان سليمان اول‎، ترکی: I. Süleyman یا Kanunî Sultan Süleyman) سلطنت عثمانیہ کے دسویں فرمانروا تھے جنہوں نے 1520ء سے 1566ء تک 46 سال تک حکمرانی کے فرائض انجام دیے۔ وہ بلاشبہ سلطنت عثمانیہ کے سب سے عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے بے مثل عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت پوری مملکت اسلامیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ انہوں نے مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں جبکہ مغرب ان کی عظمت کا اس قدر معترف ہے کہ مغربی مصنفین انہیں سلیمان ذیشان یا سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔

شاہ فواد اول

شاہ فواد اول (Fuad I of Egypt) (عربی: فؤاد الأول) مصر اور سوڈان, فرماں روا نوبیا، كردفان اور دارفور کے سلطان اور بعد میں بادشاہ تھا۔ شاہ فواد آل محمد علی کا نواں حکمران تھا۔ وہ 1917 میں مصر اور سوڈان کا سلطان بنا۔ برطانیہ سے 1922 میں مصری آزادی کو تسلیم کرنے بعد اس نے لقب سلطان کو شاہ سے تبدیل کر دیا۔

شاہ فواد دوم

شاہ فواد دوم (Fuad II of Egypt) (عربی: فؤاد الثاني) مصر اور سوڈان کا آخری بادشاہ تھا۔ شاہ فاروق اول کو 1952 کے مصری انقلاب میں اقتدار سے محروم کر کے ان کے نومولود بیٹے شاہ فواد دوم کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔

فہرست سلاطین عثمانی

آل عثمان کی حکومت جولائی 1299ء میں قائم ہوئی اور یکم نومبر 1922ء تک قائم رہی۔ 623 سالوں تک 36 عثمانی سلاطین نے فرمانروائی کی۔ آخری عثمانی سلطان عبدالمجید ثانی تھے جنہیں رسمی طور پر خلیفہ مقرر کیا گیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری خلیفہ و سلطان عبدالمجید ثانی کو 3 مارچ 1924ء کو معزول کر دیا گیا اور سلطنت عثمانیہ ختم ہو گئی۔

محمد علی پاشا

محمد علی پاشا (عربی: محمد علي باشا، ترکی: Mehmet Ali Paşa) (پیدائش 1769ء، انتقال 2 اگست، 1849ء) آل محمد علی کی سلطنت اور جدید مصر کے بانی تھے۔ وہ مصر کے خدیو یا والی تھے۔ محمد علی موجودہ یونان کے شہر کوالا میں ایک البانوی خاندان میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں تجارت سے وابستہ ہونے کے بعد وہ عثمانی فوج میں شامل ہو گئے۔

محمود ثانی

محمود ثانی (پیدائش: 20 جولائی 1785ء، انتقال: یکم جولائی 1839ء) 30 ویں عثمانی سلطان تھے۔ سلیم ثالث کے بعد جس عثمانی سلطان نے اصلاح کا کام جاری رکھنے کی کوشش کی وہ محمود (1808ء تا 1839ء) ہی تھے۔ محمود سلطان عبدالحمید اول کا بیٹا تھا۔ بے امنی، سرکشی اور بغاوتوں سے اس کے دور کا آغاز ہوا۔ مصر میں مقامی مملوک سردار بے لگام ہو چکے تھے اور عرب میں نجد کے سعودی خاندان کو عروج حاصل ہوا اور سعودی افواج نے حجاز پر قبضہ کرکے عراق اور شام تک چھاپے مارنے شروع کردیے تھے۔ یونان نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ محمود نے 18 سال کے اندر تمام بغاوتوں کا خاتمہ کر دیا۔ مصر کے والی محمد علی نے مصر و شام میں امن قائم کر دیا۔ حجاز کو سعودی افواج سے واپس لے لیا اور 1826ء میں یونان کی بغاوت بھی فرو کردی گئی۔ اسی سال ینی چری کا بھی خاتمہ کر دیا گیا جس کے سردار اور سپاہی سلطنت کے لیے ایک مصیبت بن گئے تھے۔ محمود نے اب ان کی جگہ جدید طرز کی ایک نئی فوج تیار کی جس کی وردی یورپی طرز کی تھی اور پگڑی کی بجائے ترکی ٹوپی پہنتی تھی۔ سلطان نے بکتاشی اور درویشوں کا بھی خاتمہ کر دیا جو اصلاحات کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے۔ اس کے علاوہ محمود نے جاگیرداری نظام پر بھی پابندیاں لگائیں اور یہ حکم جاری کیا کہ کوئی شخص مقدمے کے بغیر قتل نہ کیا جائے۔ سلیمان قانونی کے زمانے سے یہ قاعدہ ہو گیا تھا کہ سلاطین نے دربار میں آنا چھوڑ دیا تھا جہاں ساری کارروائی وزیر اعظم کی صدارت میں ہوتی تھی۔ محمود نے اس دستور کو توڑا اور پابندی سے دیوان میں آنا شروع کیا۔ ان اصلاحات کے بعد توقع تھی کہ سلطنت ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتی لیکن مغربی قوتیں خصوصاً روس یہ نہیں چاہتا تھا کہ سلطنت عثمانی پھر ایک بڑی طاقت بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے معاملات میں مداخلت شروع کردی اور سلطنت سے جنگ چھیڑ دی۔ 20 اکتوبر 1827ء کو یونان میں نوارینو کے مقام پر روس، انگلستان اور فرانس کے متحدہ بحری بیڑے نے حملہ کرکے عثمانی بیڑے کو بالکل تباہ کر دیا۔ روسی فوجیں بلقان کی طرف بڑھتی ہوئی 1829ء میں ادرنہ تک پہنچ گئیں،سلطان کو روس سے پھر صلح کرنی پڑی۔ روسی دباؤ کے تحت میں یونان کو آزادی دے دی گئی۔ روسی افواج نے مفتوحہ علاقے واپس کردیے لیکن دریائے ڈینیوب کے دہانے اور دریا کے شمال میں واقع رومانیہ کے علاقے پر قابض ہو گیا۔ ادھر سے اطمینان ہوا تو 1830ء میں فرانس الجزائر پر قابض ہو گیا۔ 1831ء میں مصر کے والی محمد علی پاشا نے بغاوت کردی اور اس کی فوجیں ابراہیم پاشا کی قیادت میں شام کو فتح کرتی ہوئی ترکی کے قلب میں کوتاہیہ تک پہنچ گئیں اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کا جلد ہی استنبول پر بھی قبضہ ہو جائے گا۔ ان حالات میں محمود ثانی کا انتقال ہو گیا۔

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب

مولوی تکیہ عجائب گھر

مولوی تکیہ عجائب گھر (انگریزی: Mevlevi Tekke Museum) شمالی نیکوسیا، ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں ایک تکیہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ سلسلہ مولویہ کی ایک خانقاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا جبکہ موجودہ دور میں اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ جزیرے کی اہم ترین تاریخی اور مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے۔

یہ دروازہ کیرینیہ کر نزدیک ابراہیم پاشا محلہ میں واقع ہے۔

پارگلی ابراہیم پاشا

پارگلی ابراہیم پاشا (Pargalı Ibrahim Pasha)

(ترکی: Pargalı İbrahim Paşa) جسے فرنگ ابراہیم پاشا (مغربی)، مقبول ابراہیم پاشا جو توپ قاپی محل میں اس کی موت کے بعد مقتول ابراہیم پاشا ہو گیا۔ وہ سلطنت عثمانیہ کا پہلا وزیر اعظم تھا جسے سلیمان اول نے یہ مرتبہ عطا کیا۔

ابراہیم پارگا کا پیدائشی مسیحی تھا جسے بچن میں ہی غلام بنا دیا گیا۔ وہ اور سلیمان اول بچپن سے ہی گہرے دوست بن گئے تھے۔ سلطان سلیمان نے 1523ء وزیر اول پیری محمد پاشا کو جسے اس کے والد سلیم اول نے وزیر اول مقرر کیا تھا، تبدیل کر کے ابراہیم پاشا کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ ابراہیم تیرہ سال تک اس عہدے پر فائز رہا۔ لیکن 1536ء میں سلطان نے ابراہیم پاشا کو سزائے موت کا حکم دیا اور اس کی جائداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔

کوتاہیہ

مغربی ترکی کا ایک شہر جس کی آبادی 2004ء کے اندازوں کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار باشندوں پر مشتمل ہے۔ کوتاہیہ دریائے بورسک کے کنارے سطح سمندر سے 930 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ صوبہ کوتاہیہ کا صدر مقام ہے۔

کوتاہیہ زمانۂ قدیم سے صنعتی علاقے کے طور پر معروف رہا ہے خاص طور پر ظروف سازی اور سفال گری کی صنعت کے حوالے سے اسے قدیم دور سے ہی ممتاز مقام حاصل رہا۔ جدید صنعتوں میں شکر سازی اور دباغت اور زرعی صنعت میں اناج، پھل اور شکر قندی شامل ہیں۔

کوتاہیہ ریل اور سڑکوں کے ذریعے مغرب میں 250 کلو میٹر دور بالکیسر، جنوب مغرب میں 450 کلومیٹر دور قونیہ، شمال مشرق میں 70 کلومیٹر دور اسکی شہر اور مشرق میں 300 کلومیٹر دور انقرہ سے ملا ہوا ہے۔

کوتاہیہ کے قدیم علاقوں میں روایتی عثمانی طرز کے مکانات بکثرت ملتے ہیں۔ شہر میں آثار قدیمہ بھی ملتے ہیں جن میں ایک بازنطینی دور کا قلعہ اور گرجا بھی شامل ہیں۔

1071ء میں سلجوقیوں سے اس شہر کو فتح کیا اور اگلے چند سالوں تک اس پر مسلمانوں کی حکومت رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں 1095ء میں یہ مسیحیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ سلجوقیوں نے دوسری مرتبہ اسے 1182ء میں فتح کیا۔ 1402ء میں جنگ انقرہ کے بعد امیر تیمور نے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 1482ء میں یہ عثمانی سلطنت کا حصہ بنا جس کے دوران اس نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی لیکن 19 ویں صدی میں صرف 70 کلو میٹر دور اس کی شہر کے تیزی سے پھیلنے کے بعد کوتاہیہ کی ترقی گہنا گئی اور یہ علاقائی و اقتصادی اہمیت کھو بیٹھا۔

1831ء عثمانی سلطنت کے والئ مصر محمد علی پاشا کی بغاوت کے بعد اس کا بیٹا ابراہیم پاشا شہر پر شہر فتح کرتے ہوئے کوتاہیہ تک پہنچ گیا تھا لیکن عالمی قوتوں کی مداخلت کے باعث محمد علی کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔

ترکی کے معروف سیاح اور مصنف اولیاء چلبی کا تعلق اسی شہر سے تھا۔

یمشچی حسن پاشا

داماد یمشچی حسن پاشا (پیدائش: 1535ء- وفات: 4 اکتوبر 1603ء) عثمانی سیاست دان اور سلطنت عثمانیہ کے وزیر اعظم تھے۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.