ابراہیم

ابراہیم (عبرانی: אַבְרָהָם، جدید اوراہم ، طبری ابراہام, عربی: إبراهيم)، اصلاً اورام یا ابرام (عبرانی: אַבְרָם، جدید ʾAvram ، طبری ʾAḇrām) تین ابراہیمی مذاہب (یہودیت، مسیحیت اور اسلام) کی ایک برگزیدہ شخصیت ہیں۔ خدا اور یہودیوں کے درمیان خاص تعلقات قائم کروانے کی وجہ سے وہ یہودیت میں ”میثاق“ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ مسیحیت میں انہیں تمام معتقدین (یہودیوں و غیر یہودیوں) کا نقش اول تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام میں وہ تمام انبیا کے باپ (ابو الانبیاء) ہیں۔

ابراہیم
Rembrandt Abraham Serving the Three Angels
ابراہیم ہمراہ تیں فرشتوں کے
ذاتی
پیدائش
ابرام

ار کسیدم
وفات
مدفن الخلیل
31°31′29″N 35°06′39″E / 31.524744°N 35.110726°E
شریک حہات سارہ
ہاجرہ
قطورہ
اولاد اسماعیل
اسحاق
Zimran
Jokshan
Medan
Midian
Ishbak
Shuah
مرتبہ

شجرہ نسب

تارح
سارہ[1]ابرام (ابراہیم علیہ السلام)ہاجرہحاران
نحور
اسماعیلمِلکہلوطاِسکہ
بنی اسماعیل7 بیٹے[2]بیتوایلپہلی شاخدوسری شاخ
اسحاق (اسحاق علیہ السلام)ربقہلابانبنی موآببنی عمون
عیسویعقُوب(یعقوب علیہ السلام)راحیل
بلہاہ
بنی ادومزلفہ
لیاہ
1. رئبون
2. شمعون
3. لاوی
4. یہوداہ
9. یساکار
10. زبولون
11. دینہ
7. جاد
8. آشر
5. دان
6. نفتالی
12. یوسف (یوسف علیہ السلام)
13. بنیامین

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. [Genesis 20:12]: سارہ - ابراہیم کی سوتیلی بہن تھی.
  2. [Genesis 22:21-22]: عُوض، بُوز، قموایل، کسد، حزُو، فِلداس، اور اِدلاف
آل ابراہیم

آل ابراہیم سے مراد ہیں۔ اسماعیل ( علیہ السلام)، اسحاق ( علیہ السلام)، یعقوب ( علیہ السلام)، اسباط ( علیہ السلام) اور تمام اسرائیلی پیغمبر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی گئی کہ ان میں انبیا و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے حتیٰ کہ کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہوئے۔

ابراہیم (اسلام)

ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیده اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ (النحل : 120) امام الناس (البقره: 124) حنیف اور مسلم (آل عمران: 67) کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ خدا تعالی ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔

دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہو گا۔ کیونکہ میں نے تجھے قوموں کا باپ بنایا ہے۔ (پیدائش 170:5)اکثر ماہرین کے نزدیک ابراہام یا ابراہیم ؑ بھی لفظ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے آپ کا نام ابراہم ہو اور پھر ابراہام یا ابو رہام ہو گیا ہو۔مُسلمان اُن کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔ ابراہیم کا بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انہیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔

بت پرستی کے خلاف ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔

ان کے بارے میں یہ توکہیں وضاحت نہیں ہوئی کہ کیا وحی ان پر نازل ہوئی تھی یا ان کی بعثت محض روحانی تھی؟ البتہ قرآن مجید میں ایک جگہ اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ اللہ تعالی آپ سے ہمکلام تھا۔ اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔ ایک صحیفہ جو ان کی طرف سے منسوب ہے یونانی سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں قرآن مجید میں کئی جگہ پر ارشار ہوتا ہے کہ آپ موحد مسلم اورراست رو تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

”پھر ہم نے تیری طرف (حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) وحی کی کہ ابراہیم ؑ راست رو (مسلم) کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا “

اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّورَاةُ وَالإنجِيلُ إِلاَّ مِن بَعْدِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ هَاأَنتُمْ هَؤُلاء حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ

”اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ توریت اور انجیل اس کے بعد ہی اتاری گئیں۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ سنو! تم وہ ہو جو اس میں جھگڑ چکے، جس کا تمہیں علم تھا پھر اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا میں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی، لیکن وہ راست رو اور فرماں بردار (مسلم اور حنیف)تھا اور وہ مشرکوں میں سے تھا۔ يقينا ابراہیم ؑ کے بہت نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو اس پہ ایمان لائے اورالله مومنوں کا ولی ہے۔

قرآن مجید کی تقریبا بائیس سورتوں میں حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر آتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے رسول مقبول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد ہیں۔ گویا مسلمان نہ صرف امت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ امت براہیمیہ سے بھی متعلق ہیں۔ مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد پر بھی درود بھیجتے ہیں-

ابراہیم ابن محمد

ابراہیم بن محمد (عربی:ابراہیم بن محمد) حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ماریہ القبطیہ کے بیٹے تھے۔ اُن کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ عرب کی روایات کے مطابق بچپن میں آپ پرورش و نگہداشت کے لیے اُم سیف نامی دائی کے سپرد کر دیا گیا، جن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ بکریاں بھی دیں۔

ابراہیمی مذاہب

ابراہیمی ادیان یا ابراہیمی مذاہب وہ مذاہب یا ادیان جن کا خصوصاً نبی ابراہیم سے تعلق ہے اور ان مذہبوں میں اللہ کو سب سے اعلٰی ذات اور طاقت مانا جاتا ہے۔ ان تمام ادیان میں ابراہیم کو سب اہم شخصیت سمجھتے ہیں اور یہ تمام ابراہیم کو محض خدا کا برگزیدہ نبی اور رسول مانتے ہیں اور اندرونی طور پر یہ تمام ادیان اپنے آپ کو موحد (یعنی ایک خدا کے مانے والے ) کہتے ہیں۔ ان مذہبوں میں اسلام مسیحیت اور یہودیت شامل ہیں تاہم بہائیت اور دیگر چھوٹے مذاہب بھی ان میں شمار کی جاتی ہے۔

ارض اسرائیل

ارضِ اسرائیل سے مراد یہودیوں کے مطابق، وہ زمین ہے جو تورات کی رو سے، خدا نے آل ابراہیم کو سونپ دی ـ تورات میں خدا کا ابراہیم سے وعدہ ہے کہ ابراہیم کے ایمان کے بدلے خدا اس کی آل کو عظیم قوم بنائے گا، اسے یہودی دستاویزات کے مطابق عہدِ ابراہیمی کہا جاتا ہے ـ اس عہد میں ارضِ اسرائیل بھی شامل ہے جو کنعان اور تاریخی فلسطین کو ملا کر بنتا ہے ـ یاد رہے کہ ارضِ اسرائیل ایک یہودی تصور ہے جس سے تورات میں موجود کئی جگہوں کے نام منسلک ہیں ـ مگر ان قدیم مقامات کی کوئی ٹھوس سرحدیں نہیں بیان کی جاسکتیں اور موجودہ تورات میں درج مقامات کے ناموں کو کو اگر کسی نا کسی طور عہد حاضر کے علاقائی ناموں سے پہچاننے کی تگ و دو کی جائے تو اس میں موجودہ اسرائیل، فلسطین اور اردن کے کچھ حصے شامل بتائے جاتے ہیں۔

اسحاق (اسلام)

پیغمبر۔ قرآن مجید کی سورہ ہود، حجر، زاریات، انعام،بقرۃ میں آپ کا مجملاً ذکر ہے۔ سورہ مریم (آیہ 49) اور سورہ الصفت (آیہ 112) کے مطابق آپ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ بائبل کے مطابق آپ ابراہیم کے چھوٹے بیٹے تھے اور سارہ آپ کی والدہ تھیں۔ آپ پیدا ہوئے تو ابراہیم کی عمر 100 سال اور سارہ کی 90 سال تھی۔ جائے پیدائش و وفات سرزمین شام ہے۔

بائبل نے اسحاق کو ذبیح اللہ کہا ہے۔ قرآن کی سورہ الصفت میں بھی بھی ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کا تذکرہ ہے، مگر ان کے کسی فرزند کا نام مذکور نہیں۔ علمائے اسلام کی اکثریت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ اسحاق نہیں۔ اسماعیل تھے۔ اسحاق کی شادی ابراہیم کے بھائی نحور کی پوتی ربیقہ سے ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس کی تھی۔ آپ کی دعا سے بیس سال بعد جڑواں لڑکے عیسو اور یعقوب پیدا ہوئے۔ عیسو سے بنی ادوم اوریعقوب سے (جن کا لقب اسرائیل تھا ) بنی اسرائیل کی نسل چلی۔ اسحاق نے 180 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ بعض محققین نے آپ کے زمانے کا تعین 23 ویں صدی قبل مسیح کیا ہے۔

بنی اسرائیل

ابراہیم کے پوتے اور اسحاق کے بیٹے یعقوب کا عبرانی لقب اسرائیل تھا۔ لہذاان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ یعقوب کے بارہ بیٹے تھے اس لیے ابتدا سے بنی اسرئیل بارہ قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

بیت المقدس

بیت المقدس (Temple in Jerusalem یا Holy Temple) (عبرانی: בֵּית - הַמִּקְדָּשׁ، جدید عبرانی: Bet HaMikdash / بیت ھا مقدش؛ طبری: Beṯ HamMiqdāš؛ اشکنازی: Beis HaMikdosh; عربی: بيت القدس / بيت المقدس) سے مراد ہیکل سلیمانی ہے جو قدیم یروشلم میں واقع تھا جو موجودہ مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرۃ کا مقام ہے۔ "بیت المقدس"سے مراد وہ "مبارک گھر" یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہوں سے پاک ہوا جاتا ہے۔ پہلی صدی ق م میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا۔

تارح

تارح یا آزر کے متعلق بعض علما نے فرمایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تھا، بعض نے فرمایا کہ والد نہیں چچا کا نام تھا والد کا نام تارخ تھا جو مسلمان تھے اور بعض نے فرمایا کہ آزر بت کا نام تھا۔

سارہ

سارہ (عبرانی: שָׂרָה؛ لاطینی: Sara؛ عربی: سارة؛ فارسی: سارا) ابراہیم کی بیوی تھیں۔

سارہ ابراہیم کی بیوی اسحاق کی والدہ تھیں اللہ نے سارہ کو ان کے بیٹے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد ان کے بیٹے یعقوب کی بھی خوشخبری دی۔ سارہ کو خوشخبری دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو مَردوں سے زیادہ ہوتی ہے، نیز یہ بھی سبب تھا کہ سارہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی اور ابراہیم کے فرزند اسمٰعیل موجود تھے، اس بشارت کے ضمن میں ایک بشارت یہ بھی تھی کہ سارہ کی عمر اتنی دراز ہوگی کہ وہ پوتے کو بھی دیکھیں گی۔ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی ان کو لے کر ایسی آبادی میں پہنچے جہاں باشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران رہتا تھا اس سے بیان کیا گیا کہ ابراہیم یہاں ایک خوبصورت عورت لے کر آئے ہیں آپ کے پاس اس نے ایک آدمی دریافت کرنے کو بھیجا کہ اے ابراہیم یہ عورت تمہارے ساتھ کون ہے آپ نے فرمایا میری بہن ہے پھر ابراہیم لوٹ کر سارہ کے پاس گئے اور کہا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا میں نے لوگوں کو بتایا کہ تو میری بہن ہے واللہ اس زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور حضرت سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا وہ بادشاہ حضرت سارہ کے پاس گیا وہ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کی بجز اپنے شوہر کے حفاظت کی ہے تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر تو وہ بادشاہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں زمین پر رگڑنے لگا۔ ابوہریرہ نقل کیا کہ سارہ نے کہا یا اللہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے اس کو قتل کیا اس کی یہ حالت جاتی رہی بادشاہ نے دوسری یا تیسری بار کہا کہ واللہ تم نے میرے پاس ایک شیطان کو بھیجا اس کو ابراہیم کے پاس لے جاؤ اور (ہاجرہ) لونڈی ان کو دیدو وہ لوٹ کر حضرت ابراہیم کے پاس گیئں تو کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ایک لونڈی خدمت کے لیے دلوائی۔عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ايک بار سارہ اور ہاجرہ ميں کچھ چَپقَلش ہو گئی۔ سارہ نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو ميں ہا جِرہ کا کوئی عُضو کاٹوں گی۔ اللہ نے جبرئيل کو ابراہیم خلیلُ اللہ کی خدمت ميں بھیجا کہ ان ميں صُلح کروا ديں۔ سارہ نے عرض کی، مَاحِيلَۃُ يمينی يعنی ميری قسم کا کيا حِيلہ ہو گا؟ تو ابراہیم خلیلُ اللہ پر وَحی نازِل ہوئی کہ سارہ کو حکم دو کہ وہ ہاجِرہ کے کان چَھيد ديں۔ اُسی وقت سے عورَتوں کے کان چَھيدنے کا رَواج پڑا۔

سورہ ابراہیم

قرآن مجید کی 14 ویں سورت جس کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ماخوذ ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے مکی دور کے اخیر زمانے میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں 7 رکوع اور 52 آیات ہیں۔

صحف ابراہیم

صحیفہ ابراہیم حضرت ابراہیم پر نازل کردہ آسمانی صحیفہ جس کا ذکر قرآن میں ہے۔

قوم ابراہیم

قوم ابراہیم سے مراد ان کی وہ قوم ہے جس کو انہوں نے توحید کی دعوت دی، پھر ان سے مایوس ہو کر اللہ کے حکم سے انہوں نے ہجرت فرمائی۔

مدین

حجاز میں ایک شہر، یترو (شعیب) کا شہر، اسے مدین شعیب بھی کہتے ہیں۔

مدین کا اصل علاقہ حجاز سے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا، اہل مدین کا تعلق سلسلہ بنی اسرائیل سے نہیں ہے اہل مدین دراصل ابراہیم کے صاحبزادے مدین کی اولاد میں سے ہیں، عرب کے دستور کے مطابق جو لوگ کسی بڑے شخص کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوتے وہ اسی کی طرف منسوب ہو کر بنی فلاں کہلاتے تھے، اس دستور کے مطابق عرب کا بڑا حصہ بنی اسماعیل کہلایا اور اولاد یعقوب کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہونے والے لوگ بنی اسرائیل کہلائے، اسی طرح ابراہیم کے صاحبزادے مدین کے زیر اثر آنیوالے لوگ بنی مدین کہلائے۔

مسجد الحرام

مسجد حرام جزیرہ نما عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں واقع ہے جو سطح سمندر سے 330 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، مسجد حرام کی تعمیری تاریخ عہد حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام سے تعلق رکھتی ہے۔ مسجد حرام کے درمیان میں بیت اللہ واقع ہے جس کی طرف رخ کر کے دنیا بھر کے مسلمان دن میں 5 مرتبہ نماز ادا کرتے ہیں۔

بیرونی و اندرونی مقام عبادات کو ملا کر مسجد حرام کا کل رقبہ 40 لاکھ 8 ہزار 20 مربع میٹر ہے اور حج کے دوران میں اس میں 40 لاکھ 20 ہزار افراد سماسکتے ہیں۔

مسلمان

مسلمان (عربی: مسلم، مسلمة)، (فارسی: مسلمان)، (انگریزی: Muslim) سے مراد وہ شخص ہے جو دینِ اسلام پر یقین رکھتا ہو۔ اگرچہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اسلام خدا کا دین ہے اور یہ دین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے بھی موجود تھا اور جو لوگ اللہ کے دین پر عمل کرتے رہے وہ مسلمان ہیں۔ مثلاً قرآن کے مطابق حضرتابراہیم علیہ السلام بھی مسلمان تھے۔ مگر آج کل مسلمان سے مراد اسے لیا جاتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر عمل کرتا ہو اور یقین رکھتا ہو۔

مقام ابراہیم

مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم نے اپنے قد سے اونچی دیوار قائم کرنے کے لیے استعمال کیا تھا تاکہ وہ اس پر اونچے ہوکر دیوار تعمیر کریں۔

مقام ابراہیم خانہ کعبہ سے تقریبا سوا 13 میٹر مشرق کی جانب قائم ہے۔

1967ء سے پہلے اس مقام پر ایک کمرہ تھا مگر اب سونے کی ایک جالی میں بند ہے۔ اس مقام کو مصلے کا درجہ حاصل ہے اور امام کعبہ اسی کی طرف سے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاتے ہیں۔ طواف کے بعد یہاں دو رکعت نفل پڑھنے کا حکم ہے۔ احناف کے نزدیک طواف کے بعد دو رکعت واجب ہیں، نفل نہیں۔

ابراھیم علیہ السلام کے پا‎ؤں کے نشانات اسلام کی ابتدا تک اس چٹان پر موجود تھے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں :

مقام ابراھیم سے وہ پتھر مراد ہے جس پرابراھیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات ہیں ۔حافظ ابن کثير رحمہ اللہ تعالٰی کا قول ہے :

اس پتھر میں پاؤں کے نشانات ظاہرتھے اورآج تک یہ بات معروف ہے اورجاھلیت میں عرب بھی اسے جانتے تھے، اورمسلمانوں نے بھی یہ نشانات پا‎ئے، جس طرح کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ :میں نے مقام ابراھیم دیکھا کہ اس میں ابراھیم علیہ السلام کی انگلیوں اور ايڑیوں کے نشانات موجود تھے ۔

لیکن یہ بات ہے کہ لوگوں کے ہاتھ لگنے سے وہ نشانات جاتے رہے ۔

ابن جریر نے قتادہ رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت بیان کی ہے کہ قتادہ کیا بیان ہے کہ:

"اورمقام ابراھیم کونماز کی جگہ بناؤ" اس میں حکم یہ دیا گيا ہے کہ اس کے قریب نماز پڑھیں اوریہ حکم نہیں گیا کہ اسے ہاتھ پھیریں اورمسح کریں، اوراس امت نے بھی وہ تکلیف شروع کردی جو پہلی امت کرتی تھی، ہمیں دیکھنے والے نے بتایا کہ اس میں ابراھیم علیہ السلام کی انگلیوں اورايڑيوں کے نشانات موجود تھے اور لوگ اس پرھاتھ پھیرتے رہے حتی کہ وہ نشانات مٹ گئے۔ دیکھیں: تفسیر ابن کثیر ( 1 / 117 ) ۔شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالٰی کا کہنا ہے :

اس میں کوئی شک نہیں کہ مقام ابراھیم کا ثبوت ملتا ہے اورجس پر کرسٹل چڑھایا گيا ہے وہ مقام ابراھیم ہی ہے لیکن وہ گڑھے جواس وقت اس پر ہیں وہ پا‎ؤں کے نشانات ظاہرنہیں ہوتے، اس لیے کہ تاریخی طورپر اس کا ثبوت ملتا ہے کہ پا‎ؤں کے نشانات زمن طویل سے مٹ چکے ہیں ۔

مکہ

مکہ (مکمل نام: مکہ مکرمہ، عربی: مَكَّةُ الْمُكَرّمَةْ‎، ترکی: Mekke) تاریخی خطہ حجاز میں سعودی عرب کے صوبہ مکہ کا دار الحکومت اور مذہب اسلام کا مقدس ترین شہر ہے۔ شہر کی آبادی 2004ء کے مطابق 12 لاکھ 94 ہزار 167 ہے۔ مکہ جدہ سے 73 کلومیٹر دور وادی فاران میں سطح سمندر سے 277 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ یہ بحیرہ احمر سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔

یہ شہر اسلام کا مقدس ترین شہر ہے کیونکہ روئے زمین پر مقدس ترین مقام بیت اللہ یہیں موجود ہے اور تمام باحیثیت مسلمانوں پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ یہاں کا حج کرنا فرض ہے ۔

ہاجرہ

ہاجرہ (عبرانی: הָגָר؛ یونانی: Ἄγαρ Agar؛ لاطینی: Agar؛ عربی: هاجر) ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ اور اسماعیل کے والدہ ماجدہ ہیں۔ ہاجرہ مصریہ کی اولادبنی اسمعیل کہلائی۔ اور آگے چل کر قریش اسی کی ایک شاخ پیدا ہوئی۔ ان کا وطن عرب رہا۔ یہ بادشاہ نے سارہ کو بطور خدمتگار دی

فرعون مصر نے سارہ کو اپنی بیٹی جن کا نام ہاجرہ تھا، خدمت گزاری کے لیے دے دی تھی، سارہ نے یہی ہاجرہ ابراہیم کو عطا کر دیں اور ابراہیم نے ان سے نکاح کر لیا، انہی ہاجرہ کے بطن سے یہ صاحبزادے پیدا ہوئے اور ان کا نام اسماعیل رکھا گیا۔

ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی ان کو لے کر ایسی آبادی میں پہنچے جہاں باشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران رہتا تھا اس سے بیان کیا گیا کہ ابراہیم یہاں ایک خوبصورت عورت لے کر آئے ہیں آپ کے پاس اس نے ایک آدمی دریافت کرنے کو بھیجا کہ اے ابراہیم یہ عورت تمہارے ساتھ کون ہے آپ نے فرمایا میری بہن ہے پھر ابراہیم لوٹ کر سارہ کے پاس گئے اور کہا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا میں نے لوگوں کو بتایا کہ تو میری بہن ہے واللہ اس زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا وہ بادشاہ سارہ کے پاس گیا وہ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کی بجز اپنے شوہر کے حفاظت کی ہے تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر تو وہ بادشاہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں زمین پر رگڑنے لگا۔ ابوہریرہ نقل کیا کہ سارہ نے کہا یا اللہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے اس کو قتل کیا اس کی یہ حالت جاتی رہی بادشاہ نے دوسری یا تیسری بار کہا کہ واللہ تم نے میرے پاس ایک شیطان کو بھیجا اس کو ابراہیم کے پاس لے جاؤ اور (ہاجرہ) لونڈی ان کو دیدو وہ لوٹ کر ابراہیم کے پاس گیئں تو کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ایک لونڈی خدمت کے لیے دلوائی۔

آدم سے داؤد تک، بائبل کے مطابق
تخلیق سے طوفان نوح تک
قابیلی شاخ
طوفان کے بعد کے پیٹری آرک
قبیلہ یہوداہ بادشاہت
عبرانی بائبل میں انبیاء
قبل از کاہن
کاہن / کاہنہ
توریت میں
اسرائیلی انبیاء
سابق انبیاء
کا تذکرہ
بڑے پیغمبر
چھوٹے پیغمبر
نوحیت
دیگر
کاتھولک مقدسین
کنواری مریم
رسل
مقرب فرشتے
معترفین
شاگِردان
معلمین
مؤلفین انجیل
آبائے کلیسیا
شہدا
بزرگان
پوپ
انبیا
کنواریاں

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.