آل ابراہیم

آل ابراہیم سے مراد ہیں۔ اسماعیل ( علیہ السلام)، اسحاق ( علیہ السلام)، یعقوب ( علیہ السلام)، اسباط ( علیہ السلام) اور تمام اسرائیلی پیغمبر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی گئی کہ ان میں انبیا و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے حتیٰ کہ کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہوئے۔[1]

شجرہ نسب بمطابق عہد نامہ قدیم نسخہ

تارح
سارہ[2]ابرام (ابراہیم علیہ السلام)ہاجرہحاران
نحور
اسماعیلمِلکہلوطاِسکہ
بنی اسماعیل7 بیٹے[3]بیتوایلپہلی شاخدوسری شاخ
اسحاق (اسحاق علیہ السلام)ربقہلابانبنی موآببنی عمون
عیسویعقُوب(یعقوب علیہ السلام)راحیل
بلہاہ
بنی ادومزلفہ
لیاہ
1. رئبون
2. شمعون
3. لاوی
4. یہوداہ
9. یساکار
10. زبولون
11. دینہ
7. جاد
8. آشر
5. دان
6. نفتالی
12. یوسف (یوسف علیہ السلام)
13. بنیامین

حوالہ جات

  1. تفسیر مکہ مفسر صلاح الدین یوسف،آل عمران 33
  2. [Genesis 20:12]: سارہ - ابراہیم کی سوتیلی بہن تھی.
  3. [Genesis 22:21-22]: عُوض، بُوز، قموایل، کسد، حزُو، فِلداس، اور اِدلاف
آل عمران

ترتیب کے اعتبار سے قرآن مجید کی تیسری سورت جو مدینے میں نازل ہوئی۔۔ اس سورت کا خطاب یہود و نصاریٰ اور مسلمان سے ہے۔ اول الذکر گروہوں کو ان کی اعتقادی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں پر تنبیہ کے بعد فرمایا گیا ہے کہ قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں اسی دین کی طرف بلا رہے ہیں، جس کی دعوت انبیا علیہم السلام شروع سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔ اس دین کے سیدھے راستے سے ہٹ کر جو راہیں تم نے اختیار کر رکھی ہیں۔ وہ خود ان کتب میں موجود نہیں ہیں جن کو تم کتب آسمانی تسلیم کرتے ہو۔

اللہ تبارک و تعالٰیٰ نے مسلمانوں کو اپنی اُن کمزوریوں کی اصلاح پر بھی متوجہ کیا گیا ہے جن کا ظہور جنگ احد کے سلسلے میں ہوا تھا اور انہیں یقین دلایا ہے کہ دین حق پر ثابت قدم رہے تو ان کے لیے کامیابی کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔

ابابیل

ابابیل کا تعلق عصفوری النسل پرندوں کے گروہ خُطافخن سے ہے۔ اس پرندے کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُڑتے اُڑتے بھی کھا سکتا ہے۔

ارض اسرائیل

ارضِ اسرائیل سے مراد یہودیوں کے مطابق، وہ زمین ہے جو تورات کی رو سے، خدا نے آل ابراہیم کو سونپ دی ـ تورات میں خدا کا ابراہیم سے وعدہ ہے کہ ابراہیم کے ایمان کے بدلے خدا اس کی آل کو عظیم قوم بنائے گا، اسے یہودی دستاویزات کے مطابق عہدِ ابراہیمی کہا جاتا ہے ـ اس عہد میں ارضِ اسرائیل بھی شامل ہے جو کنعان اور تاریخی فلسطین کو ملا کر بنتا ہے ـ یاد رہے کہ ارضِ اسرائیل ایک یہودی تصور ہے جس سے تورات میں موجود کئی جگہوں کے نام منسلک ہیں ـ مگر ان قدیم مقامات کی کوئی ٹھوس سرحدیں نہیں بیان کی جاسکتیں اور موجودہ تورات میں درج مقامات کے ناموں کو کو اگر کسی نا کسی طور عہد حاضر کے علاقائی ناموں سے پہچاننے کی تگ و دو کی جائے تو اس میں موجودہ اسرائیل، فلسطین اور اردن کے کچھ حصے شامل بتائے جاتے ہیں۔

اولاد محمد

حضرت محمد کی اولاد میں چار بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ جن کے نام درج ذیل ہے۔

ایک کبڑی عورت کو شفا بخشنا

ایک کبڑی عورت کو شفا بخشنا یا بیمار عورت کا یسوع سے شفا پانا انجیـل لوقا میں مذکور ایک معجزۂ مسیـح ہے۔

سبت کے دن یسوع ایک عبادت گاہ میں درس فرما رہے تھے کہ معاً آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جس کی کمر جھکی اور سیدھی نہیں ہوتی تھی۔ وہ اٹھارہ برس سے اسی قابلِ رحم حالت میں تھی۔ یسوع نے اسے قریب بلا کر فرمایا:

"بی‌بی، آپ کو اِس بیماری سے چھٹکارا مل گیا"۔ اور اس نے اس پر ہاتھ رکھے۔ اسی دم وہ سیدھی ہو گئی اور خدا کی تمجید کرنے لگی۔ عبادت گاہ کا پیشوا اس لیے کہ یسوع نے سبت کے دن شفا بخشی، خفا ہوکر لوگوں سے کہنے لگا "ہفتے میں چھ دن ہیں جن پر کام کرنا جائز ہے۔ اُن پر آ کر شفا کیوں نہیں پاتے؟ سبت کے دن کیوں آتے ہو؟"

یسوع نے یہ سن کر فرمایا:

"اے ریاکارو! کیا ہر ایک تم میں سے سبت کے دن اپنے بیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پلانے نہیں لے جاتا؟ پس کیا واجب نہ تھا کہ جو ابرہام کی بیٹی (مطلب آل ابراہیم میں سے) ہے اور جسے شیطان نے 18 سال سے باندھ کر رکھا تھا، سبت کے دن اِس بندھن سے چھٹکارا نہیں ملنا چاہیے؟"

آپ کی اس حقیقت افشانی سے یسوع کے سب مخالف شرمندہ ہوئے لیکن عوام ان کا رہائے عالیشان کے باعث خوش ہوئے۔

بت

بُت یا صنم ایک تصویر یا مادی شے ہوتی ہے جو کسی خدائی کی نمائندگی کرتا ہے جس کے نام مذہبی پرشتش کی جاتی ہے۔ عام زندگی میں بُت ایسی چیز کو بھی کہا جاتا ہے جس کی اندھی ستائش، تعظیم اور عقیدت کی جائے۔

بنو اوس

بنو خزرج کے بعد مدینے کا دوسرا بڑا قبیلہ۔ بنو اوس بنو خزرج کے بعد ایمان لائے۔ دونوں قبیلے اسلام لانے سے قبل ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہتے تھے۔ لیکن اسلام نے ان کی دیرینہ عداوتوں کا خاتمہ کر دیا اور ان میں مواخات قائم کردی۔

تشہد

نماز کی دو رکعتوں کے بعد نماز کو بیٹھنا ضروری ہے۔ اس حالت میں التحیات پڑھی جاتی ہے۔ جس کے اخیر میں شہادت کے کلمات آتے ہیں۔ اور اسی نسبت سے اسے تشہد کہتے ہیں۔ نماز دو رکعت کی ہوتو تشہد کے بعد درود شریف اور دعا پڑھ کر نماز سلام پر ختم کردی جاتی ہے۔ اگر دو رکعت سے زائد تین رکعت یا چار رکعت کی وہ تو تشہد کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور پھر آخری رکعت میں قعدہ بیٹھنا کیا جاتا ہے۔ اس میں تشہد اور درود و دعا پڑھے جاتے ہیں۔ آخری قعدہ فرض ہے۔

≤نماز میں تشہد اور درود کے الفاظ≥

نماز میں تشہد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے متعدد اور مختلف الفاظ وارد ہیں، چنانچہ کامل طریقہ یہی ہے کہ مسلمان ان سب کو نماز میں پڑھا کرے اس کے لیے کبھی ایک نوعیت کے الفاظ پڑھے تو کبھی دوسری نوعیت کے، تا کہ تمام مسنون الفاظ نماز میں ادا کر سکے اور چند ایک پر اکتفا نہ ہو، اگر ایسا کرنا دشوار ہو تو پھر جن الفاظ کو یاد کرنے کی استطاعت رکھتا ہے انہی پر اکتفا کر لے اس پر کوئی حرج نہیں ہوگا، ان شاء اللہ

ذیل میں تشہد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے کچھ ثابت الفاظ ذکر کرتے ہیں :

ابن مسعود کا تشہد:

( التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ )

ترجمہ: تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔ بخاری: (6265) مسلم: (402)

ابن عمر ما کا تشہد:

( التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ )

ترجمہ: تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔ ابو داود (971) اسے البانی نے صحیح کہا ہے۔

سیدنا عمر نے لوگوں کو تشہد سکھلاتے ہوئے منبر پر فرمایا تھا :

(التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ،الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ، الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)

ترجمہ: تمام زبانی عبادات اللہ کے لیے ہیں، تمام نیک اعمال اللہ کے لیے ہیں، تمام مالی اور بدنی عبادات اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔ مؤطا مالک (204) اسے البانی نے صحیح کہا ہے۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے الفاظ یہ ہیں:

(اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)

ترجمہ: یا اللہ! محمد اور آل محمد پر درود نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر درود نازل کیا، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ یا اللہ! محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ بخاری: (3370)

(اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)

ترجمہ: یا اللہ! محمد اور آل محمد پر درود نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر درود نازل کیا اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر جہانوں میں برکت نازل کی، بیشک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ مسلم: (405)

راہب

راہب (جمع رہبان) اس عبادت گزار کو کہتے ہیں جو دنیا کے ہنگاموں سے الگ تھلگ خانقاہوں اور حجروں میں مصروف ذکر و فکر رہتا ہے۔

اس سے فعل رھب اللہ یرھبہ ہے یعنی وہ اللہ سے ڈرا۔ رھبا ورھبا ورھبۃ الرھبانیہ والترھب، گرجا میں عبادت کرنا۔ جو لوگ تارک دنیا ہو کر جنگلوں میں گرجے بنالیتے تھے اور وہیں زندگی گزارتے تھے انہیں راہب کہا جاتا تھا۔ الرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی شامل ہو۔

صومعہ

صومعہ ( عربی: الصومعة ) الجزائر کا ایک الجزائر کی بلدیات جو صوبہ البلیدہ میں واقع ہے۔

عظیم تر اسرائیل

لفظ عظیم تر اسرائیل یا سرزمین کامل اسرائیل، (عبرانی: ארץ ישראל השלמה) ایک اظہار خواہش ہے، جس کے بیشمار مذہبی اور سیاسی پہلو ہیں۔ بعض اوقات یہ لفظ تورات میں مذکور سرزمین موعود کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ وقت میں اس کی سادہ ترین سیاسی تشریح ملک اسرائیل اور سرزمین فلسطین کی تمام حدود ہیں۔

جبکہ مذہبی محاذ پراس موضوع کے مدعی ان آیات پیدایش 15: 18 تا 15 :21 کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں:

اِس وجہ سے اُس دِن خداوند نے ایک وعدہ کر کے اَبرام سے ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے اُس سے کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا۔ میں اُن کو دریائے مصر سے دریائے فرات تک کے علاقے کو دوں گا۔ یہ فینیوں کا، قینزیوں کا، قدمونیوں کا، اور حِیتیوں کا، فِریّزیوں کا، رفائیم کا، اموریوں کا، کنعانیوں کا، جِرجاسیوں کا ، اور یبوسیوں کا ملک ہے۔

اور وہ ان آیات اور ان سے اخذ کردہ مفہوم سے معلوم شدہ حدود کو نیل سے فرات تک کے وعدے کا نام دیتے ہیں۔ جو ان (یہودیوں) سے کیا گیا۔ جب کہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ یہ وعدہ صرف یہودی قوم سے نہیں کیا گیا تھا کیونکہ یہودی بنی اسرائیل کے بارہ میں سے ایک قبیلے سے ہیں اور بنی اسرائیل قوم اسحاق کے دو میں سے ایک قبیلے سے ہیں اور قوم اسحاق آل ابراہیم کے آٹھ قبیلوں میں سے ایک ہے۔ تو وہ وعدہ خدا نے نیل سے فرات تک کا آل ابراہیم سے کیا تھا نہ کہ صرف یہودی قوم سے۔

اور وہ جو تورات اور قرآن میں قوم اسرائیل (صرف یہودیوں سے نہیں) سے وعدہ کیا گیا ہے سرزمین موعود کا وہ صرف زمین کا ایک مختصر ٹکڑا نیل سے فرات تک کا ہے۔

سرزمین موعود کی حدود کا کامل تعین گنتی 34 و حزقی ایل 47 ہو چکا ہے۔ جو نیل و فرات اور موجودہ اسرائیل کی نسبت کم تر ہیں۔

غار حرا

مکہ مکرمہ کے قریب واقع پہاڑ جبل نور میں واقع ایک غار، جہاں پہلی وحی نازل ہوئی۔ یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے ساٹھ ستر میٹر نیچے مغرب کی سمت جانا پڑتا ہے۔ نشیب میں اتر کر راستہ پھر بلندی کی طرف جاتا ہے جہاں غار حرا واقع ہے۔ غار پہاڑ کے اندر نہیں بلکہ اس کے پہلو میں تقریباً خیمے کی شکل میں اور ذرا باہر کو ہٹ کر ہے۔ کم و بیش نصف میٹر موٹے اور پونے دو میٹر تک چوڑے اور تین چار میٹر لمبے چٹانی تختے پہاڑ کے ساتھ اس طرح ٹکے ہوئے ہیں کہ متساوی الساقین مثلث جیسے منہ والا غار بن گیا ہے جس کا ہر ضلع اڑھائی میٹر لمبا اور قاعدہ تقریباً ایک میٹر ہے۔ غار کی لمبائی سوا دو میٹر ہے اور اس کی اونچائی آگے کو بتدریج کم ہوتی گئی ہے۔ غار کا رخ ایسا ہے کہ سارے دن میں سورج اندر نہیں جھانک سکتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب چالیس سال کے ہوئے تو آپ چند روز کی خوراک ساتھ لے کر جبل نور پر آتے اور اس غار میں غور و فکر اور عبادت فرماتے تھے۔ یہیں ایک روز جبرائیل علیہ السلام امین نمودار ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سب سے پہلی وحی نازل کی جس کے ذریعے باری تعالٰی نے آپ کو نبی آخر الزماں مبعوث کیا۔

قوم

قوم کا لفظ عربی زبان سے ہے اور بشمول فارسی و اردو دیگر قریبی زبانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو میں عام طور پر قوم سے مراد کسی خاص افرادی گروہ کی لی جاتی ہے جس کی اقدار و روایات آپس میں مشترک ہوں، یعنی یوں کہا جاسکتا ہے کہ قوم اصل میں انگریزی کے لفظ Nation کے متبادل بکثرت استعمال ہوتا ہے جس کو بعض اوقات امت یا امہ کے لفظ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ لفظ قوم کے حروف تہجی کی اس ترتیب کے ان عام معنوں کے علاوہ عربی کے لفظ قوم کی ترتیبِ حروف کے دیگر معانی بھی ہوتے ہیں اور اسی سے متعدد دیگر اہم الفاظ بھی ماخوذ کیے جاتے ہیں ؛ مثال کے طور پر اردو کا ایک عام لفظ تقویم بھی اسی لفظ قوم سے اخذ کیا جاتا ہے۔ گو ابجد کی ترتیب قوم ہی رہتی ہے مگر ان دونوں مفاہیم میں فرق اعراب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جو حروف کی اس ترتیب کی ادائگی میں فرق سے واضح اور شناخت کی جاتی ہے۔ لفظ Nation یا امت کے معنوں میں جو لفظ قوم کا ادا کیا جاتا ہے اس میں ق پر زبر آتا ہے جبکہ لفظ fixing یا upright یا اصلاح یا مستقیم کے معنوں میں جو قوم کا لفظ ادا ہوتا ہے، اس میں ق کے ساتھ ساتھ و پر بھی زبر آتا ہے اور اسی و پر زبر کی وجہ سے و پر لطیف سی تشدید بھی ادا ہوتی ہے۔

و ساکن کے ساتھ قوم سے لفظ امت یا Nation کے معنوں میں اس کے استعمال کے لیے دیکھیےقوم (Nation)

و زبر کے ساتھ اس سے ماخوذ لفظ تقویم (Adjustment) میں اس کی مثالوں کے لیے دیکھیے

تخمینہ لگانے کے معنوں میں اس کی ایک مثال کے لیے دیکھیےتقویم (Calendar)۔

اصلاح و درستی کے معنوں میں اس کی ایک مثال کے لیے دیکھیےتقویمِ حول (Orthoptics)۔

قوم عاد

یہ مضمون قومِ عاد کے بارے میں ہے۔

عاد ایک قدیم عربی قوم ہے جس کا ذکر قرآن میں سورۃ ھود (آیات 50 تا 60) اور سورۃ الفجر (آیات 6 تا 8) میں آتا ہے۔ اس قوم پر حضرت ھود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ جب اس قوم نے شرک اور بت پرستی ترک نہ کی تو اللہ نے عذاب نازل کر کے اسے تباہ کر دیا۔ اس قوم کے تذکرے کو کہانی سمجھا جاتا تھا مگر اسی صدی میں اس کے مرکزی شہر ارم (عربی میں إرَم ذات العماد اور انگریزی میں Irem, Ubar, Wabar کے آثار برآمد ہوئے ہیں جو الربع الخالی کے اس حصے میں ہے جو آج کل عمان میں شامل ہے۔

عاد اصل میں حضرت نوح علیہ السلام کی چوتھی پشت سے تھے (عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح) اور ان کے نام پر اس قوم کو پکارا جاتا ہے۔ قوم عاد کو مشہور روایات کے مطابق ایک عظیم آندھی سے تباہ کیا گیا تھا۔ قرآن کے مطابق یہ قوم دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت سے دور اور محروم ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق یہ قوم 3000 سال قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک موجود تھی۔ ان کو ہزار ستونوں والے شہر کی قوم بھی کہا جاتا ہے۔

قرآن کی سورۃ الفجر میں آتا ہے۔

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے (قومِ) عاد کے ساتھ کیسا (سلوک) کیا۔

جو (اہلِ) اِرم تھے (اور) بڑے بڑے ستونوں (کی طرح دراز قد اور اونچے محلات) والے تھے۔

جن کا مثل (دنیا کے ) ملکوں میں (کوئی بھی) پیدا نہیں کیا گیا۔ القرآن۔ سورۃ الفجر (آیات 6 تا 8)

مہاجرین

مہاجرین (عربی : المهاجرون) ان ابتدائی مسلمانوں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے ان کے ساتھ (مکہ سے مدینہ کی طرف) ہجرت کی۔ مدینہ کے ابتدائی مسلمان انصار ("مددگار") کے نام سے مشہور ہیں۔

نوح

نوح (/ˈnoʊ.ə/؛ عبران: נֹחַ، נוֹחַ، جدید: Noaẖ، سریانی: ܢܘܚ ‎ نوکھ، قدیم یونان: Νῶε) ابراہیمی مذاہب کے اہم پیغمبروں میں سے ایک ہیں یہ دسویں اور قبل از سیلاب آخری بزرگ ہیں۔

نیل

نیل (Indigo) ایک رنگ ہے جسے روایتی طور پر مرئی طیف اور قوس قزح کے رنگوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ نیلے اور بنفشی رنگوں کے درمیان کا رنگ ہے۔ اسے گہرا بنفشی بھی کہا جاتا ہے۔

ہامان (وزیر فرعون)

ہامان کا ذکر قرآن کریم 6 مرتبہ آیا سورۃ القصص کی آیت6، آیت8 اور آیت 38 میں آیا ہے۔ آیت کا ترجمہ ہے:

اور ملک میں ان کو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔(القصص:6)

تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لیے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لیے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے۔(القصص:8)

اور فرعون نے کہا کہ اے اہلِ دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لیے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر ایک (اُونچا) محل بنادو تاکہ میں موسٰی کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اُسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔(القصص:38)سورۃ عنکبوت کی آیت 39 میں بھی ہامان کا نام آیا ہے:

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہو گئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے۔(عنکبوت:39)اس کے علاوہ سورۃ غافر کے آیت 24 اور آیت 36 میں بھی ہامان کا ذکر ملتا ہے:

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔(غافر:24)

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لیے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں۔(غافر:36)

یثرب

یثرب مدینہ کا پرانا نام تھا۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے یثرب کو ہجرت کی تو اس کا نام مدینۃ النبی پڑ گیا جو اب اختصاراً مدینہ کہلاتا ہے۔

قرآن میں اشخاص کے نام

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.