آریوسیت

آریوسیت (Arianism) پادری آریوس (250-336) کے نظریات کے ماننے والوں کا مسیحی فرقہ، آریوسی عقیدہ کے مطابق یسوع مسیح کامل مخلوق ہیں، خدا باپ کے جوہر سے نہیں ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ پیدا ہوتے، وہ موجود نہیں تھے۔ ۔ اسی عقیدے والوں کو پہلی نیقیہ کونسل میں بدعتی عقیدہ قرار دیا گيا۔

Arius
آریوس
Menologion of Basil 024 — Second Council of Nicaea
نیقیہ کونسل نے آریوس کو اس کی تعلیمات پر سزا دی
آریوس

آریوس (Arius) (قدیم یونانی: Ἄρειος) اسکندریہ، مصر میں ایک تارک الدنیا شمالی افریقی مسیحی پروہت اور پادری تھاے، جن کا اصل وطن قدیم لیبا تھا۔ آریوس کا مسیح کی تصور بطور خدا کا بیٹا ہمیشہ سے موجود ہی نہیں تھا اور یہ بعد میں بنا دیا گیا اور اس وجہ سے خدا باپ مختلف ہے۔

آریوس (256-336ھ) مسیحی مذاہب میں سے آریوسی مذہب (Arianism) کا موجد ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ یسوع مسیح معبود نہیں بلکہ اللہ (باپ) کی طرف سے پیدا کیا گیا ہے تو یسوع مسیح اللہ کے ساتھ اس کی فطرت میں شریک نہیں بلکہ ان کے درمیان میں تبنی (بیٹا ہونے) کا تعلق اور نسبت ہے۔

آریوس 270م کو قورینا (موجودہ لیبیا) میں آمونیوس (جو اصلا بربر ی تھا) کے گھرمیں پیدا ہوا اور اپنی مذہبی تعلیم اسکندریہ کے مذہبی مدرسہ میں حاصل کی اور وہاں کہ بپتسمہ (Baptism) جس کا نام اوریجن (اوریجانوس) تھا کہ أفکار سے متاثر ہوا جوخود افلاطونی نظریہ سے متآثر تھا،اسی وجہ سے اس نے انطاکیہ کے علاقہ لوکیانوس میں واقع مدرسہ (جو ارسطو کے منطق سے متاثر تھا) میں بھی تعلیم حاصل کی،جہاں بعض ایسے لوگوں کے ساتھ ایک ہی درسگاہ میں پڑھا جنہوں نے بعد میں کہانت کے اعلیٰ درجات حاصل کرنے تک ترقی کی،اور انہی لوگوں نے اس کو اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے جدوجہد کے راستے میں دھکیل دیا۔

انطاکیہ کے علاقہ لوکیانوس کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان سب حضرات کا لقب " اللوکیانیین" یا "الاتحاد اللوکیانی" پڑ گیا، لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ آریوس نے اس سے پہلے اسکندریہ کہ مذہبی مدرسہ میں بھی تعلیم حاصل کی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آریوس نے تعلیم کے شعبہ میں دو مدرسوں "انطاکیہ اور اسکندریہ" کے مختلف سمتوں کو جمع کر دیا،

بعد میں انطاکیہ کے مدرسہ سے نسبت رکھنے والوں نے آریوس پر چڑھائی کرتے ہوئے الزام لگانا شروع کر دیا کہ وہ "اسکندری" ہے جبکہ دوسری طرف اسکندریہ کے مدرسہ سے تعلق رکھنے والوں نے "انطاکی" مشہور کر دیا۔

آریوس اسکندریہ میں اس جگہ مقیم ہوا جہاں "راہب پطرس" نے اسے کاھن کے طور پر مقرر کیا تھا لیکن اپنے اس دور کے شروعات میں اس کے رجحانات بغاوت کیطرف تھے،کیونکہ کاھن مقرر کیے جانے سے پہلے اور بعد میں اسے ایک باغی راہب "میلیتوس" ( جو لیکوبولیس (آسیوط) کاراہب تھا) کا پابند بنایاگیا تھا،جس کی وجہ سے اسے کہانت کے منصب سے ہٹادیاگیا،مگر بعد میں راہب پطرس کے خلیفہ آخیلاس کے ہاتھ پر دوبارہ اسی منصب پر فائز کیا گیا۔

اتنا لمبا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ آریوس نے إسکندروس کے بشپ بننے کی تائید کردی،اگرچہ آریوس ذاتی طورپراپنی شخصیت اورثقافت کیوجہ سے شہر میں بلند رتبہ پاسکتا تھا۔

مگرچند سال بعد تقریباً 318م میں اسکااسکندروس کیساتھ کتاب مقدس میں "ابن اللہ" کے متعلق ایک نص میں اختلافی جھگڑا پیدا ہو گیا،جس کی بنا پراسکندر (Alexander) نے اسے مطالعہ کرنے کے لیے ایک موضوع دیا جس کی شرح پیش کرتے ہوئے آریوس نے ان مطالب اورمفاھیم کا اظھار کیا جو ایمان کے مخالف تھے،جب اسکندروس نے آریوس کے تقریرمیں یسوع مسیح کے معبود ہونے کے متعلق اپنے عقیدہ کی مخالفت دیکھی تو دونوں کے درمیان یہ معاملہ شدت اختیار کر گیا بایں طور کہ آریوس نے اس بات پر زور دیا کہ یسوع مسیح اللہ کی مخلوق ہیں نیز کہا کہ اسکندر کے نظریات بت پرستوں کے نظریت سے ملتے جلتے ہیں،لیکن اس کے باوجود اس کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی گئی مگربعد میں اس کی اس بدعت کو مذموم سمجھتے ہوئے گرجاگھر سے نکال دیا۔

آریوس نے فلسطین کیطرف سفرکیا پھر سوریہ کی طرف متوجہ ہوا اور وہاں اپنے اردگرد ایسے راہبوں کو جمع کرنے میں کامیاب ہوا جو اس کو اس کی عقیدہ کی وجہ سے جانتے تھے اور انہی راہبوں میں سے فیقومیدیا کا راہب"اوسابیوس"،اور قیصریہ کا راہب "اوسانیوس"بھی تھے۔

جتنے بھی راہب اس کے اردگرد جمع تھے سب نے اس کی تائید کی اور اس سے کلیسا میں دوبارہ لوٹنے کا مطالبہ کیا۔

اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد قسطنطین اور ولیکینیوس کے درمیاں ہونی والی جھڑپوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے امنی کی وجہ سے آریوس ایک مرتبہ پھر اسکندریہ جانے میں کامیاب ہوا اور بڑے جوش وجذبہ سے دوبارہ اپنے عقیدہ (کہ یسوع مسیح خدا کے بندے ہیں) کو پھیلانا شروع کر دیا اور مکالمات اور نظموں کے ذریعے یہ بات لوگوں میں پھیلائی۔

ایمبروس

ایمبروس میلان کے ایک اسقف تھے جو چوتھی صدی کی بااثر کلیسیائی شخصیات میں سے ایک بنے۔ وہ 374ء میں پسنديدگی کی بِنا پر اُسقف بنائے جانے سے پہلے لیگوریا اور ایمیلیا کے ایک رومی گورنر تھے۔ وہ آریوسیت کے کٹّر حریف تھے۔ ایمبروس کو آریوسی، یہودیوں اور پاگانوں کی ایذا رسانی اور تکلیف دہی کو فروغ دینے کا ملزم ٹھہرایا جاتا ہے۔

تاریخ مسیحیت

تاریخ مسیحیت یسوع مسیح اور ان کے بارہ رسولوں کے زمانے سے موجودہ زمانے تک مسیحیت اور کلیسیا کی عہد بعہد تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ مسیحیت ایک توحید پرست مذہب ہے جس کی بنیاد یسوع مسیح کی زندگی اور ان کی تعلیمات ہیں اور کلیسیا سے مراد مسیحی الٰہیات یعنی وہ تحریک و تنظیم ہے جس کو یسوع مسیح نے اپنے بعد نجات کی مہم کو انسانوں کے درمیان پھیلانے کے لیے قائم کیا تھا۔ مسیحیت کا آغاز پہلی صدی عیسوی میں ایک چھوٹی یہودی جماعت کی شکل میں ہوا اور بہت کم عرصہ میں یہ مذہب مشرق وسطی اور رومی سلطنت کے علاقوں خصوصاً شمالی افریقا میں پھیل گیا۔ حالانکہ رومی شہنشاہ اس مذہب کے خلاف تھے بلکہ اس کے متبعین پر ظلم بھی کیا کرتے تھے لیکن تیسری صدی عیسوی کے بعد چوتھی صدی عیسوی میں مسیحیت رومی سلطنت کا شاہی مذہب اور یونانی و رومی تہذیب کا حصہ بن گیا۔ آرمینیا رومی سلطنت کا پہلا ملک ہے جس نے 301 عیسوی میں مسیحیت کو سرکاری مذہب قرار دیا، پھر 319 عیسوی میں جارجیا نے، اس کے بعد 325 عیسوی میں ایتھوپیا نے اور بعد ازاں 380 عیسوی تک رومی سلطنت کا سرکاری مذہب بن گیا۔ قرون وسطیٰ میں مسیحیت خوب پھیلی حتی کہ شمالی یورپ اور روس تک جا پہنچی اور بعد ازاں یہ پوری دنیا میں پھیل گئی اور روئے زمین کا سب سے بڑا مذہب بن گئی۔ اس کے متبعین کی تعداد 2.2 بلین ہے جو انسانی آبادی کے تقریباً ایک تہائی حصہ پر مشتمل ہے۔ مسیحیت کی طویل تاریخ میں اسے مذہبی اور سیاسی کشمکش اور تنازعات بھی درپیش رہے جن کی وجہ سے یہ مذہب تین بڑے فرقوں میں بٹ گیا، راسخ الاعتقاد (مشرقی و شرقی)، کاتھولک اور پروٹسٹنٹ۔

فرانس

جمہوریہ فرانس یا فرانس (فرانسیسی: République française، دفتری نام: جمہوریہ فرانس) ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔

وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انہوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔

انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔

فرانس سینکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔

مذاہب و عقائد کی فہرست

مذہب ثقافتی نظاموں، عقائد، آفاقی تصورات نیز انسانیت، روحانیت اور اخلاقی اقدار و تصورات کا ایک مرکب ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی وضاحت کرنا تھوڑا مشکل ہے، مگر مذہبیات کے مطالعہ میں کلیفارڈ گیرٹز نے مذہب کا ایک معیاری ماڈل تیار کیا ہے جسے وہ ثقافتی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ طلال اسد نے گیرٹز کے اس ماڈل پر تنقید کی اور مذہب کی انسانی درجہ بندی کی ہے۔ متعدد مذاہب میں اساطیری کہانیاں، علامات، تہذیبیں اور مقدس تاریخیں ہوتی ہیں جس سے زندگی اور کائنات کی وضاحت ہوتی ہے اور انکی ابتدا کا بیان ہوتا ہے۔ ان کا مقصد اپنے عالم ظاہر اور انسانی فطرت سے خیالات اخذ کر کے اخلاق، اخلاقیات، احکام شرعیہ اور پسندیدہ نظام حیات کو متعارف کروانا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 4,200 مذاہب ہیں۔لفظ مذہب متوازی طور پر کبھی کبھی ایمان اور یقین کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن مذہب ذاتی اعتقاد سے بایں طور قدرے مختلف ہے کہ مذہب کا تعلق سماج سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر مذاہب میں منظم مذہبی رویے بشمول مذہبی درجہ بندی ہوتے ہیں، دونوں مل کر یہ تعین کرتے ہیں کہ مذہب کو اپنانے، اس پر عمل کرنے، معبد میں جانے، معبود کی عبادت کرنے، مقدس مقامات کی زیارت کرنے اور مذہبی متون پر عمل پیرا ہونے کا طریقہ کار اور قوانین کیا ہوں۔ کچھ مذاہب کی اپنی مقدس زبان ہوتی ہے اور اسی میں عبادت کی جاتی ہے۔ مذہبی اعمال میں وعظ، خدا یا خداؤں کی عبادت، قربانی، تہوار، ضیافت، وجد، آغازیت، تجہیز و تکفین؛ شادی، مراقبہ موسیقی، فن، ناچ، سماجی خدمت یا دیگر تہذیبی و ثقافتی رسومات بھی شامل ہیں۔ مذہبی تعلیمات میں ماورائے نفسیاتی امور بھی شامل ہوتے ہیں جیسے قریب المرگ تجربہ، تجربہ بیرون جسم، تناسخ، ماورائے طبعی اور مافوق الفطرت تجربات وغیرہ۔ مذہبیات کا مطالعہ کرنے والی کچھ اکیڈمیوں نے مذہب کو 3 گروہوں میں تقسیم کیا ہے: عالمی مذاہب یعنی ایسے مذاہب جو عالمگیر اور کثیر ثقافتی ہوں؛ مقامی مذاہب یعنی ایسے مذاہب جو کسی خاص علاقہ، ملک، گروہ یا تہذیب سے تعلق رکھتے ہوں اور نئی مذاہبی تحریکیں یعنی حالیہ وجود میں آنے والے مذاہب۔

ایک جدید نظریہ یعنی سماجی تعمیریت کے مطابق مذہب ایک جدید تصور ہے جو تمام روحانی اعمال و عبادات ابراہیمی مذاہب کی طرح کسی ماڈل کے تابع اور ایسے نظام کے تحت ہوتے ہیں جو حقیقت کی تشریح اور جنس انسانی کی وضاحت کرتا ہے، چنانچہ مذہب کو بطور ایک تصور ان غیر مغربی ثقافتوں پر منطبق کرنا نامناسب ہے جو ان نظاموں پر مبنی نہیں یا جن میں بڑی حد تک ان نظاموں کو خاص اہمیت حاصل نہیں ہے۔

مملکت سوئبی

مملکت سوئبی (Kingdom of the Suebi) جسے مملکت گالایسیا (Kingdom of Gallaecia) بھی کہا جاتا ہے ایک جرمن بعد روم سلطنت تھی۔ یہ رومی سلطنت سے علاحدہ ہونے والوں میں اولین شمار کی جاتی ہے۔

مملکت مغربی گوتھ

مملکت مغربی گوتھ (Visigothic Kingdom) ایک مملکت تھی جو پانچویں صدی سے آٹھویں صدی تک موجودہ جنوب مغربی فرانس اور جزیرہ نما آئبیریا پر قائم تھی۔

پہلی نیقیہ کونسل

325ء میں قسطنطین اعظم بادشاہ نے مسیحیت کو سرکاری مذہب قرار دیا تو اس وقت اس نے ایک عالمگیر کونسل بلوائی جس کا مقصد انجیل کو مدون و مرتب کرنا، اسی کونسل میں تثلیث کو مسیحیت کا بنیادی عقیدہ قرار دیا گيا۔ یہ کونسل نیقیہ میں منعقد ہوئی جو آج کل ترکی کا حصہ ہے۔ اسی نسبت سے اسے نیقیہ کونسل کہا جاتا ہے۔ کونسل نے آریوس کے عقیدہ کو رد کر کے تثلیث کو قبول کر لیا اور کئی اناجیل کو بھی بدعتی اور غیر مسلمہ قرار دیتے ہوئے ان کو پڑھنے سے منع کر دیا۔

دیگر زبانیں

This page is based on a Wikipedia article written by authors (here).
Text is available under the CC BY-SA 3.0 license; additional terms may apply.
Images, videos and audio are available under their respective licenses.